صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 125
صحیح البخاری جلدی ۱۲۵ ۶۱ - كتاب المناقب تشريح : عَلَامَاتُ النُّبُوَّةِ فِي الْم سلام : یعنی اسلام میں (یا اسلام کی روسے ) نبوت کی علامتیں۔ اس عنوان سے ظاہر ہے کہ اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں نبوت کی بعض علامتیں ایسی بھی بتائی جاتی ہیں جنہیں اسلام درست نہیں سمجھتا۔ مثلاً یہ کہ نبی علم و قدرت باری تعالیٰ یا دیگر صفات الوہیت میں اپنے خالق کا شریک ہو سکتا ہے یا اس کی خدائی میں دخل دے سکتا ہے یا یہ کہ کوئی پیغمبر خالق کا بیٹا ہو سکتا ہے۔ اسلامی تعلیم کی رو سے ایسی باتیں قرار دینا درست نہیں۔ اسلامی کلمہ توحید میں کوئی ابہام نہیں ۔ لَا إِلَهَ إِلَّا الله یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، ان کی حیثیت پیغام پہنچانے والے کی ہے۔ کتنا واضح بیان ہے جس سے توحید اور نبوت مشتبہ نہیں ہوتی۔ دونوں کی نشاندہی کھلی ندہی کھلی کھلی شہادت سے کر دی گئی ہے۔ ت سے کر دی گئی ہے۔ روزانہ علی الاعلان جس کا اقرار مؤذن کی زبان سے اور ہر مسلم فرد کی زبان سے متعدد بار اس کی پنجگانہ نمازوں میں دُہرایا جاتا ہے۔ باب ۲۵ کے تعلق میں چونسٹھ روایتیں نقل کی گئی ہیں جن میں مندرجہ ذیل قسم کی علامتیں مذکور ہیں: (1) رویا صادقہ (۴) مکالمہ الہیہ (۲) مکاشفات (۳) وحی و القاء (۵) ملائکہ اللہ کا مشاہدہ (۶) بشارت و انذار پر مشتمل خبریں (۷) استجابت دعا (۸) ایفاضه و استفاضه (۹) بیماروں کی شفایابی (۱۰) دعا و توجہ سے کھانے پینے کی اشیاء اور پھلوں میں برکت (11) نظر ثاقب عنوان عَلَامَاتُ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسلام سے پایا جاتا ہے کہ اسلام میں نبوت جاری ہے، اس کا دروازہ بند نہیں جیسا کہ عام طور پر غلطی سے سمجھا جاتا ہے بلکہ ہمیشہ کے لئے کھلا ہے۔ یہ عنوان جملہ اسمیہ مثبتہ ہے۔ ایک بڑی علامت نبوت کی وحی الہی کا نزول اور مکالمہ مخاطبہ سے شرف یابی ہے جو منعم علیہ کی آرزو ہے کیونکہ اس سے محبوب حقیقی کے ساتھ وصال نصیب ہو جاتا ہے۔ صاحب اقتراب الساعة نے بالصراحت روایت لَا وَحْيَ بَعْدِی کی صحت سے انکار کیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ روایت بے اصل ہے البتہ حدیث لا حديث لا نَبِي بَعْدِی صحیح ہے اور اس کے یہ معنی ہیں کہ ایسا نبی نہیں ہو گا جو نئی شریعت کا حامل ہو۔ ( اقتراب الساعۃ، باب نزول عیسی علیہ السلام ، صفحہ ۱۶۲) نبوت دو قسم کی ہے۔ ایک تشریعی جو ختم ہے اور دوسری غیر تشریعی جو غیر منقطع ہے اور اسلام میں یہ قسم پائی جاتی ہے۔ یہی بات حضرت محی الدین ابن العربی وغیرہ علماء ربانی اس سے قبل لکھ چکے ہیں کہ نبوت جو منقطع ہے وہ نبوت تشریع ہے نہ کہ مقام نبوت جو امت میں ہمیشہ کے لئے اہل اللہ کو حاصل رہے گا۔ شیخ اکبر کے الفاظ اس بارہ میں یہ ہیں : فَإِنَّ النُّبُوَّةَ الَّتِي انْقَطَعَتْ بِوُجُودِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هِيَ النُّبُوَّةُ التَّشْرِيعِ لَا مَقَامُهَا فَلَا شَرْعَ يَكُونَ نَاسِخًا بِشَرْعِهِ الله