صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 122
صحیح البخاری جلدی ۱۲۲ ۶۱ - كتاب المناقب لِسَعْدٍ أَلَا انْتَظِرْ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ دو پہر ہو ، اور لوگ غافل ہو جائیں تو جاکر طواف النَّهَارُ وَغَفَلَ النَّاسُ انْطَلَقْتُ فَطُفْتُ کر لینا۔ اس اثناء میں کہ حضرت سعد طواف کر رہے تھے ، کیا دیکھتے ہیں کہ ابو جہل ہے ۔ وہ فَبَيْنَا سَعْدٌ يَطُوْفُ إِذَا أَبُو جَهْلٍ کہنے لگا: یہ کون ہے جو کعبہ کا طواف کر رہا ہے ؟ فَقَالَ مَنْ هَذَا الَّذِي يَطُوْفُ بِالْكَعْبَةِ حضرت سعد نے کہا: میں۔ اسعد ہوں۔ ابو جہل بولا : فَقَالَ سَعْدٌ أَنَا سَعْدٌ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ کیا تم کعبہ کا طواف امن سے کرو گے حالانکہ تم تَطُوْفُ بِالْكَعْبَةِ آمِنًا وَقَدْ آوَيْتُمْ نے محمد (صلی اللوم ) اور اس کے ساتھیوں کو پناہ دی ہے۔ حضرت سعد نے کہا: ہاں۔ ں۔ تب ان دونوں مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ فَقَالَ نَعَمْ فَتَلَاحَيَا نے ایک دوسرے کو گالیاں دیں۔ امیہ نے حضرت بَيْنَهُمَا فَقَالَ أُمَيَّةُ لِسَعْدٍ لَا تَرْفَعْ سعد سے کہا: ابو الحکم پر اپنی آواز اونچی نہ کرو کیونکہ صَوْتَكَ عَلَى أَبِي الْحَكَمِ فَإِنَّهُ سَيِّدُ وه باشندگان وادی کا سردار ہے۔ حضرت سعد نے أَهْلِ الْوَادِي ثُمَّ قَالَ سَعْدٌ وَاللَّهِ لَئِنْ کہا: بخدا اگر تم نے بیت اللہ کا طواف کرنے سے مجھے روکا تو میں بھی شام میں تمہاری تجارت بند مَّنَعْتَنِي أَنْ أَطُوْفَ بِالْبَيْتِ لَأَقْطَعَنَّ کر دوں گا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود کہتے تھے: مَنْجَرَكَ بِالشَّامِ قَالَ فَجَعَلَ أُمَيَّةُ یہ سن کر امیہ حضرت سعد سے یہی کہتا رہا کہ اپنی يَقُوْلُ لِسَعْدٍ لَا تَرْفَعْ صَوْتَكَ وَجَعَلَ آواز بلند نہ کرو اور ان کو روکتا رہا۔ حضرت سعد يُمْسِكُهُ فَغَضِبَ سَعْدٌ فَقَالَ دَعْنَا غصہ میں آئے اور کہنے لگے : ہمیں ان باتوں سے صر الله عَنْكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّہ رہنے دو۔ میں نے محمد علی اسلام سے سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے: یہی تمہیں قتل کروانے والا ہے۔ امیہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزْعُمُ أَنَّهُ قَاتِلُكَ قَالَ نے کہا: مجھ کو ! حضرت سعد نے کہا: ہاں۔ یہ سن إِيَّايَ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَاللهِ مَا يَكْذِبُ کرامیہ بولا : اللہ کی قسم ! محمد جب بات کہتے ہیں تو مُحَمَّدٌ إِذَا حَدَّثَ فَرَجَعَ إِلَى امْرَأَتِهِ جھوٹی بات نہیں کہتے۔ آخر وہ اپنی بیوی کے پاس واپس آیا اور کہنے لگا: کیا تمہیں علم نہیں کہ میرے فَقَالَ أَمَا تَعْلَمِيْنَ مَا قَالَ لِي أَخِي پیر بی بھائی نے مجھ سے کیا کہا ہے؟ اس نے پوچھا: الْيَغْرِبِيُّ قَالَتْ وَمَا قَالَ قَالَ زَعَمَ أَنَّهُ کیا کہا ؟ امیہ نے کہا: کہتا ہے کہ اس نے محمدؐ سے سنا سَمِعَ مُحَمَّدًا يَزْعُمُ أَنَّهُ قَاتِلِي قَالَتْ کہ وہ کہتے ہیں کہ ابو جہل ہی میرا قاتل ہو گا۔ اس