صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 121
صحیح البخاری جلدی ۱۲۱ ۶۱ - كتاب المناقب ٣٦٣١ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ۳۶۳۱: عمرو بن عباس نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عبد الرحمن) بن مہدی نے ہمیں بتایا کہ سفیان عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ (ثوری) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے محمد بن رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ منکدر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ لَّكُمْ مِنْ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس قالین ہیں؟ أَنْمَاطٍ قُلْتُ وَأَنَّى يَكُوْنُ لَنَا الْأَنْمَاطُ میں نے کہا: ہمارے پاس قالین کہاں! آپ نے قَالَ أَمَا وَإِنَّهَا سَتَكُوْنُ لَكُمُ الْأَنْمَاطُ فرمایا: سنو! عنقریب تمہارے پاس بھی قالین فَأَنَا أَقُوْلُ لَهَا يَعْنِي امْرَأَتَهُ أَخْرِي عَنَّا ضرور ہوں گے۔ میں اس سے کہا کرتا یعنی اپنی أَنْمَاطَكِ فَتَقُوْلُ أَلَمْ يَقُلِ النَّبِيُّ بیوی سے کہ ان اپنے قالینوں کو ہم سے ہٹا دو۔ تو وہ کہتی : کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (تمہیں) صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا سَتَكُوْنُ لَكُمُ الْأَنْمَاطُ فَأَدَعُهَا ۔ طرفه: ۵۱۶۱ نہیں فرمایا تھا کہ عنقریب تمہارے پاس بھی قالین ہوں گے تو یہ سن کر میں نے انہیں رہنے دیا۔ ٣٦٣٢ : حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ ۳۶۳۲ احمد بن اسحاق نے مجھ سے بیان کیا کہ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى عبید اللہ بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔ اسرائیل نے سے بیان کیا۔ انہوں نے ابو اسحاق حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ہم - سے ، ابو اسحاق نے عمرو بن میمون سے ، عمرو نے حضرت عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْطَلَقَ انہوں نے کہا: حضرت سعد بن معاذ عمرہ کی نیت سے وہ چلے گئے۔ حضرت عبد اللہ کہتے تھے اور و سَعْدُ بْنُ مُعَادٍ مُعْتَمِرًا قَالَ فَنَزَلَ امیہ بن خلف ابو صفوان کے پاس اُترے اور امیہ عَلَى أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ أَبِي صَفْوَانَ کی عادت تھی کہ جب لہ جب شام کی طرف جاتا تو مدینہ وَكَانَ أُمَيَّةُ إِذَا انْطَلَقَ إِلَى الشَّامِ فَمَرَّ سے گذرتا، حضرت سعد کے پاس ٹھہرتا۔ امیہ بِالْمَدِينَةِ نَزَلَ عَلَى سَعْدٍ فَقَالَ أُمَيَّةُ نے حضرت سعد سے کہا: ابھی انتظار کرو۔ جب