صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 120
صحیح البخاری جلدی ۱۲۰ ۶۱ - كتاب المناقب وَيَنْفَعُ آخَرِيْنَ فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ اس میں فائدہ پہنچا سکتا ہو تو جو اُن انصار میں سے وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُّسِيْئِهِمْ فَكَانَ آخِرَ اچھے کام کرنے والا ہو، اس سے وہ قبول کرے اور جو اُن میں سے برائی کرنے والا ہو، اس سے مَجْلِسٍ جَلَسَ فِيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ اطرافه: ۹۲۷، ۳۸۰۰ در گذر کرے۔ یہی آخری مجلس تھی جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے۔ ٣٦٢٩ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۳۶۲۹: عبد الله بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ یحییٰ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ بن آدم نے ہمیں بتایا کہ حسین جعفی نے ہم سے الْجُعْفِيُّ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ الْحَسَنِ بیان کیا۔ انہوں نے ابوموسیٰ سے ، ابو موسیٰ نے حسن (بصری) سے، حسن نے حضرت ابو بکرہ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْرَجَ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ ایک دن حسن کو باہر لائے اور ان کو لے کر منبر يَوْمِ الْحَسَنَ فَصَعِدَ بِهِ عَلَى الْمِنْبَرِ پر چڑھے۔ آپؐ نے فرمایا: میرا یہ بیٹا سردار ہے فَقَالَ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ اور امید ہے کہ اللہ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔ کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائے۔ اطرافه : ۲۷۰۴، ۳۷۴۶، ۷۱۰۹ ٣٦٣٠ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۳۶۳۰: سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے محمید بن ہلال سے، محمید نے حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جعفر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى جَعْفَرًا وَزَيْدًا قَبْلَ (بن ابي طالب) اور حضرت زید بن حارثہ) کے أَنْ يَجِيْءَ خَبَرُهُمْ وَعَيْنَاهُ تَدْرِفَانِ۔ شہید ہونے کی خبر دی۔ پیشتر اس کے کہ لوگوں کو ان کے شہید ہونے کی خبر آتی؛ اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ اطرافه ۱۲۴۶ ، ۲۷۹۸، ۳۰۶۳، ۳۷۵۷، ۴۲۶۲