صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 116
صحیح البخاری جلد 117 ۶۱ - كتاب المناقب عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ جَدِهِ عبد الله بن ابی بُردہ سے، بُرید نے اپنے دادا ابو بردہ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوْسَی أَرَاهُ عَنِ سے، انہوں نے حضرت ابو موسیٰ سے، میں سمجھتا النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ہوں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَّكَّةَ روایت کی۔آپ نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی سر زمین کی طرف إِلَى أَرْضِ بِهَا نَخْلٌ فَذَهَبَ وَهَلِي إلَى أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوْ هَجَرُ فَإِذَا هِيَ ہجرت کر رہا ہوں جس میں کھجور کے درخت ہیں۔میرا خیال گیا کہ یہ یمامہ یا ہجر ہے۔مگر اس کی تعبیر الْمَدِينَةُ يَخْرِبُ وَرَأَيْتُ فِي رُؤْيَايَ مدینہ میٹرب تھی اور میں نے اپنے اس خواب میں هَذِهِ أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ دیکھا کہ میں نے ایک تلوار ہلائی ہے تو اس کا اگلا صَدْرَهُ فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيْبَ مِنَ حصہ ٹوٹ گیا ہے۔تو ٹوٹنے کی تعبیر وہ مومن ہیں الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ ثُمَّ هَزَزْتُهُ أُخْرَى جو جنگ احد کے دن شہید ہوئے۔پھر میں نے فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ فَإِذَا هُوَ مَا اس کو دوبارہ ہلا یا تو پھر وہ ویسی اچھی ہو گئی جیسی کہ بِهِ مِنَ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ وہ پہلے تھی۔تو اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا فتح دینا الْمُؤْمِنِيْنَ وَرَأَيْتُ فِيْهَا بَقَرًا وَاللهُ خَيْرٌ اور مومنوں کا پھر سے اکٹھا ہونا تھا اور میں نے فَإِذَا هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ يَوْمَ أُحُدٍ وَإِذَا اس خواب میں کچھ گائیں دیکھیں اور اللہ خیر الْخَيْرُ مَا جَاءَ اللهُ بِهِ مِنَ الْخَيْرِ کے الفاظ سنے تو معلوم ہوا کہ گائیوں سے مراد وہ وَثَوَابِ الصِّدْقِ الَّذِي آتَانَا اللهُ بَعْدَ مومن تھے جو جنگ اُحد کے دن شہید ہوئے؛ اور خیر سے مراد وہی خیر اور سچائی کا بدلہ تھا جو اللہ يَوْمِ بَدْرٍ۔اطرافه: ۳۹۸۷، ۴۰۸۱، ۷۰۳۵، ۷۰۴۱- نے ہمیں جنگ بدر کے بعد دیا۔٣٦٢٣: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۳۶۲۳: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ زکریا نے زَكَرِيَّاءُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَامِرِ الشَّعْبِي ہمیں بتایا۔انہوں نے فراس سے، فراس نے عامر عَنْ مَّسْرُوْقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ شعبی سے ، عامر نے مسروق سے ہمسروق نے حضرت عَنْهَا قَالَتْ أَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں: