صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 110
صحیح البخاری جلدی ۱۱۰ ۶۱ - كتاب المناقب قَالَ نَعَمْ أَسْرَيْنَا لَيْلَتَنَا وَمِنَ الْغَدِ دن بھی اس وقت تک کہ جب ٹھیک دوپہر کا وقت ہو گیا اور راستہ بالکل خالی ہو گیا۔ کوئی بھی اس پر حَتَّى قَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ وَخَلَا الطَّرِيقُ نہیں گزرتا تھا اور ہمیں ایک لمبی چٹان دکھائی دی لَا يَمُرُّ فِيْهِ أَحَدٌ فَرُفِعَتْ لَنَا صَخْرَةٌ جس کا سایہ تھا۔ وہاں دھوپ نہیں آئی تھی۔ ہم طَوِيلَةٌ لَهَا ظِلَّ لَمْ تَأْتِ عَلَيْهِ اس کے پہلو میں اُترے اور میں نے نبی صلی علیم کے لئے جگہ اپنے ہاتھ سے درست کی تا کی تا آپ وہاں الشَّمْسُ فَنَزَلْنَا عِنْدَهُ وَسَوَّيْتُ لِلنَّبِي ہوئیں اور میں نے اس جلد پر اور میں نے اس جگہ پر پوستین بچھا دی اور کہا: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَانًا بِيَدِي يا رسول اللہ ! سو جائیں اور میں آپ کے ارد گرد يَنَامُ عَلَيْهِ وَبَسَطْتُ عَلَيْهِ فَرْوَةً سب طرف نگاہ رکھوں گا (یعنی پہرہ دوں گا۔) وَقُلْتُ لَهُ نَمْ يَا رَسُوْلَ اللهِ وَأَنَا آپ سو گئے اور میں آپ کے اردگرد نگاہ ڈالنے کی نیت سے نکلا۔ میں نے اچانک کیا دیکھا کہ ایک أَنْفُضُ لَكَ مَا حَوْلَكَ فَنَامَ وَخَرَجْتُ چرواہا اپنی بکریاں لئے اسی چٹان کی طرف سامنے أَنْفُضُ مَا حَوْلَهُ فَإِذَا أَنَا بِرَاعِ مُقْبِلٍ سے آرہا ہے۔ وہ بھی اس چٹان کے سایہ میں اسی بِغَنَمِهِ إِلَى الصَّخْرَةِ يُرِيدُ مِنْهَا مِثْلَ طرح ٹھہرنا چاہتا تھا جس طرح ہم نے چاہا۔ میں الَّذِي أَرَدْنَا فَقُلْتُ لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلَامُ نے پوچھا: لڑ کے تم کس کے ہو؟ اس نے کہا: مدینہ والوں میں سے ایک شخص کا، یا (کہا:) مکہ فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَوْ کے ایک شخص کا۔ میں نے پوچھا: کیا تمہاری مَكَّةَ قُلْتُ أَفِي غَنَمِكَ لَبَنٌ قَالَ بکریوں میں دودھ ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ میں نَعَمْ قُلْتُ أَفَتَحْلِبُ قَالَ نَعَمْ فَأَخَذَ نے کہا: پھر کیا تم دودھ دوہو گے ؟ اس نے کہا: ہاں۔ اس نے ایک بکری لی۔ میں نے کہا: تھن کو شَاةً فَقُلْتُ انْفُضِ الضَّرْعَ مِنَ مٹی، بال، کیچڑ وغیرہ سے صاف کر دو۔ دو۔ ابو اسحاق التَّرَابِ وَالشَّعَرِ وَالْقَذَى قَالَ فَرَأَيْتُ کہتے تھے: میں نے حضرت براء کو دیکھا کہ وہ الْبَرَاءَ يَضْرِبُ إِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے پر مار کر جھاڑتے الْأُخْرَى يَنْفُضُ فَحَلَبَ فِي قَعْبِ تھے۔ اس نے لکڑی کے ایک پیالے میں تھوڑا سا دودھ دوہا۔ میرے پاس چھاگل تھی (سفر میں ) كُتُبَةً مِنْ لَّبَنٍ وَمَعِي إِدَاوَةٌ حَمَلْتُهَا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اٹھ لایا تھا تا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَوِي آپ اس سے سیر ہو کر پانی پئیں اور وضو کریں۔