صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 109
صحیح البخاری جلدی ۱۰۹ ۶۱ - كتاب المناقب رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَرَأَ رَجُلَ الْكَهْفِ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے وَفِي الدَّارِ الدَّابَّةُ فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ فَسَلَّمَ سنا کہ ایک شخص سورہ کہف پڑھ رہا تھا اور اس کے فَإِذَا ضَبَابَةٌ {أَوْ سَحَابَةٌ } غَشِيَتْهُ گھر میں جانور بندھا ہوا تھا تو وہ بدکنے لگا۔ اتنے فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں کیا دیکھا کہ گہر یا بدلی ہے جو اس پر چھا گئی فَقَالَ اقْرَأْ فَلَانُ فَإِنَّهَا السَّكِينَةُ ہے۔ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر نَزَلَتْ لِلْقُرْآنِ أَوْ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ۔ کیا تو آپ نے فرمایا: اے فلاں ! تم قرآن پڑھتے اطرافه: ۴۸۳۹، ۵۰۱۱ رہو کیونکہ یہی وہ سکینت ہے جو قرآن پڑھنے کی وجہ سے نازل ہوئی یا فرمایا: قرآن پڑھنے کی وجہ سے آہستہ آہستہ نازل ہوتی ہے۔ ٣٦١٥: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوْسُفَ ۳۶۱۵: محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ احمد بن یزید بن ابراہیم ابوالحسن حرانی نے ہمیں بتایا۔ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ زہیر بن معاویہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابو اسحاق أَبُو الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ نے ہمیں بتایا۔ میں نے حضرت براء بن عازب سے بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ سنا، وہ کہتے تھے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ میرے سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُوْلُ جَاءَ باپ کے پاس ان کے مکان میں آئے اور اس سے أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي فِي ايک پالان خریدی۔ انہوں نے حضرت عازب سے کہا: اپنے بیٹے کو میرے ساتھ بھیجو کہ وہ میرے مَنْزِلِهِ فَاشْتَرَى مِنْهُ رَحْلًا فَقَالَ ساتھ یہ اُٹھا کر لے جائے۔ حضرت براء کہتے تھے : لِعَازِبٍ ابْعَثِ ابْنَكَ يَحْمِلْهُ مَعِي قَالَ چنانچہ میں ان کے ساتھ پالان اُٹھا کر لے گیا اور فَحَمَلْتُهُ مَعَهُ وَخَرَجَ أَبِي يَنْتَقِدُ ثَمَنَهُ میرے باپ اس کی قیمت پر کھوانے کے لئے نکلے تو فَقَالَ لَهُ أَبِي يَا أَبَا بَكْرٍ حَدِّثْنِي میرے باپ نے نے ان سے کہا: ابو بکر! وہ واقعہ تو مجھے بتائیں کہ جب آپ نے رسول اللہ صلی علیم کے كَيْفَ صَنَعْتُمَا حِيْنَ سَرَيْتَ مَعَ ساتھ سفر کیا تھا تو آپ دونوں نے کیا کیا تھا؟ انہوں رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کہا : ہاں ہم رات بھر چلتے رہے اور دوسرے ا یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۱ حاشیہ صفحہ ۷۵۹) ترجمہ ان کے مطابق ہے۔