صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 108
صحیح البخاری جلدی ۱۰۸ ۶۱ - كتاب المناقب ٣٦١٣ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۳۶۱۳: علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ از هر بن سعد نے ہمیں بتایا کہ (عبد اللہ ) بن عون قَالَ أَنْبَأَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: موسیٰ بن بنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ انس نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْتَقَدَ ثَابِتَ اللہ علیہ وسلم نے حضرت ثابت بن قیس کو غیر بْنَ قَيْسٍ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُوْلَ اللهِ حاضر پایا۔ تو ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! میں أَنَا أَعْلَمُ لَكَ عِلْمَهُ فَأَتَاهُ فَوَجَدَهُ اس کا پتہ آپ کو لا کر دیتا ہوں۔ چنانچہ وہ ان کے جَالِسًا فِي بَيْتِهِ مُنَكِّسًا رَأْسَهُ فَقَالَ پاس آیا اور ان کو اپنے گھر میں اپنا سر اوندھا گئے مَا شَأْنُكَ فَقَالَ شَرِّ كَانَ يَرْفَعُ ہوئے بیٹھے پایا۔ اس نے پوچھا: آپ کا کیا حال صَوْتَهُ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ ہے ؟ انہوں نے کہا: بُرا حال ہے۔ اپنی آواز نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ صلى اللہ علیہ وسلم کی آواز سے زیادہ بلند کیا کرتا تھا۔ اس کے تو عمل رائیگاں گئے اور اب وہ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَأَتَى الرَّجُلُ روزخیوں میں سے ہے۔ یہ سن کو وہ شخص آیا اور فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ كَذَا وَكَذَا۔ فَقَالَ مُوسَى بْنُ أَنَسٍ فَرَجَعَ الْمَرَّةَ الْآخِرَةَ ہے۔ موسیٰ بن انس کہتے تھے: پھر وہ دوسری بِبِشَارَةٍ عَظِيمَةٍ فَقَالَ اذْهَبْ إِلَيْهِ دفعہ بہت ہی بڑی بشارت لے کر واپس گیا۔ فَقُل لَّهُ إِنَّكَ لَسْتَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ آپؐ نے فرمایا: اس کے پاس جاؤ اور اس سے وَلَكِنْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ۔ طرفه: ۴۸۴۶ اس نے آپ کو خبر دی کہ انہوں نے ایسا ایسا کہا کہو : تم دوزخیوں میں سے نہیں ہو، بلکہ جنتیوں میں سے ہو۔ ٣٦١٤ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۳۶۱۴ : محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں إِسْحَاقَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ نے ابو اسحاق سے روایت کی کہ (انہوں نے کہا:) ا فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ الدار ہے۔ ( فتح الباری جزء ۲ حاشیہ صفحہ ۷۵۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔