صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 105
صحیح البخاری جلد ۱۰۵ ۶۱ - كتاب المناقب مِنْ بَنِي تَمِيْمٍ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ انصاف فرمائیں۔آپ نے فرمایا: وائے افسوس! اعْدِلْ فَقَالَ وَيْلَكَ وَمَنْ يُعْدِلُ إِذَا اور کون انصاف کرنے گا، اگر میں نے انصاف نہ لَمْ أَعْدِلْ قَدْ جِبْتَ وَخَسِرْتَ إِنْ لَّمْ کیا؟ پھر تو تم بے مراد ہی رہے اور گھاٹے میں أَكُنْ أَعْدِلُ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُوْلَ اللهِ پڑے، اگر میں نے انصاف نہ کیا۔حضرت عمرؓ بولے: یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس انْذَنْ لِي فِيْهِ فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ فَقَالَ کی گردن اڑا دوں۔آپ نے فرمایا: اسے رہنے دَعْهُ فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ رو، کیونکہ اس کے کچھ ایسے ساتھی ہونگے کہ تم میں صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ وَصِيَامَهُ مَعَ سے ایک اپنی نماز کو ان کی نمازوں کے مقابل اور صِيَامِهِمْ يَقْرَءُوْنَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے سامنے حقیر سمجھے گا۔وہ قرآن پڑھیں گے جو اُن کی ہنسلیوں تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّيْنِ كَمَا سے آگے نہیں جائے گا۔دین سے ایسے نکل يَمْرُقُ السَّهُمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ يُنْظَرُ إِلَى جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے۔اس نَصْلِهِ فَلَا يُوْجَدُ فِيْهِ شَيْءٍ ثُمَّ يُنْظَرُ کی بھال میں دیکھا جائے تو اس میں (خون کا) إِلَى رِصَافِهِ فَمَا يُوْجَدُ فِيْهِ شَيْءٌ ثُمَّ نشان تک نہ پایا جائے۔پھر اس کے جوڑ کی جگہ کو يُنْظَرُ إِلَى نَضِيَهِ وَهُوَ قِدْحُهُ فَلَا دِیکھا جائے تو اس میں بھی کوئی نشان نہ پایا جائے۔يُوْجَدُ فِيْهِ شَيْءٌ ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى قُذَذِهِ پھر اس کے بانس کو دیکھا جائے تو اس میں بھی کوئی نشان نہ پایا جائے۔(نفی) تیر کی لکڑی کو کہتے فَلَا يُوجَدُ فِيْهِ شَيْءٌ قَدْ سَبَقَ الْفَرْثَ ہیں۔پھر پر کو دیکھا جائے تو اس میں بھی نشان نہ وَالدَّمَ آيَتُهُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ إِحْدَى پایا جائے۔وہ لید اور خون سے صاف نکل گیا ہے۔عَضُدَيْهِ مِثْلُ تَدْيِ الْمَرْأَةِ أَوْ مِثْلُ ان لوگوں کی نشانی ایک سیاہ فام شخص ہو گا جس الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ وَيَخْرُجُوْنَ عَلَى حِيْن کے بازوؤں میں سے ایک بازو عورت کے پستان فُرْقَةٍ مِّنَ النَّاسِ۔قَالَ أَبُو سَعِيدٍ یا گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہوگا جو تھلتھلاتا ہو گا۔وہ اس وقت ظاہر ہوں گے جب لوگوں میں فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ تفرقہ ہو گا۔حضرت ابوسعید نے کہا: میں مِنْ رَّسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شہادت دیتا ہوں کہ میں نے یہ بات رسول اللہ وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِب قَاتَلَهُمْ صلى الله علیہ وسلم سے سنی اور میں شہادت دیتا