صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 103
صحیح البخاری جلد ۱۰۳ ۶۱ - كتاب المناقب قَدَفُوْهُ فِيْهَا قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ فرمایا: ہاں۔جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے صِفْهُمْ لَنَا فَقَالَ هُمْ مَنْ جِلْدَتِنَا والے ہوں گے جو اُن کی بات مان کر دروازوں کی وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا قُلْتُ فَمَا طرف گیا تو وہ اس کو جہنم میں پھینک دیں گے۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم سے ان کا حال بیان فرمائیں۔آپ نے فرمایا: وہ ہماری قوم سے ہوں تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ قَالَ تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ قُلْتُ گے، ہماری زبان بولیں گے۔میں نے پوچھا: فَإِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں اگر اس شر نے مجھے قَالَ فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا آگھیرا؟ آپ نے فرمایا: تم مسلمانوں کی جماعت وَلَوْ أَنْ تَعَضُّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى اور ان کے امام کے ساتھ رہنا۔میں نے کہا: اگر يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ۔ان کی جماعت نہ ہو اور نہ کوئی امام ؟ تو آپ نے فرمایا: پھر ان سب فرقوں سے الگ رہو اگرچہ تمہیں درخت کی جڑیں بھی چھانی پڑیں۔تم اسی حالت میں رہو، خواہ موت کی نوبت پہنچ جائے۔اطرافه : ۳۶۰۷، ۷۰۸۴- ٣٦٠٧ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۳۶۰۷: محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا، کہا: يحي قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ بن سعید نے مجھے بتایا کہ اسماعیل سے روایت ہے کہ قیس نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: اللَّهُ عَنْهُ قَالَ تَعَلَّمَ أَصْحَابِي میرے ساتھی صحابہ نے (بھلائی) خیر ( کی حالت) دریافت کی اور میں نے (آنحضرت صلی الظلم سے) إِسْمَاعِيْلَ حَدَّثَنِي قَيْسٌ عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ الْخَيْرَ وَتَعَلَّمْتُ الشَّرَّ۔اطرافه: ۳۶۰۶، ۷۰۸۴- شر ( کی حالت) دریافت کی۔٣٦٠٨: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ :۳۶۰۸: حکم بن نافع نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ شعیب نے ہم سے بیان کیا: زہری سے روایت أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ہے کہ انہوں نے کہا: ابو سلمہ بن عبد الرحمان