صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 98
صحیح البخاری جلدی ۹۸ ۶۱ - كتاب المناقب عَلَى أُطْمِ مِنَ الْآطَامِ فَقَالَ هَلْ تَرَوْنَ محلوں (یعنی بلند مکانوں) میں سے ایک محل پر مَا أَرَى إِنِّي أَرَى الْفِتَنَ تَقَعُ خِلَالَ چڑھے اور فرمایا: کیا تم بھی دیکھتے ہو جو میں دیکھ بُيُؤْتِكُمْ مَوَاقِعَ الْقَطْرِ۔ رہا ہوں؟ میں فتنوں کو دیکھتا ہوں جو تمہارے اطرافه: ۱۸۷۸، ۲۴۶۷، ۷۰۶۰ گھروں کے اندر ایسے پڑرہے ہیں، جیسے بارش کے قطرے پڑتے ہیں۔ ٣٥٩٨ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۳۵۹۸ ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي نے ہمیں بتایا۔ زہری سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ زینب بنت ابی سلمہ نے انہیں بتایا کہ حضرت أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ ام حبیبہ بنت ابی سفیان نے حضرت زینب بنت أَبِي سُفْيَانَ حَدَّثَتْهَا عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جحش سے روایت کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ نبی جَحْشِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ لا اعلم ان کے پاس گھبرائے ہوئے آئے، فرمار ہے وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَزِعًا يَقُوْلُ لَا إِلَهَ تھے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ عربوں کو اس إِلَّا اللهُ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرِّ قَدِ شر سے ہلاکت ہو گی جو قریب آپہنچا ہے۔ آج اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَّدْمِ يَأْجُوجَ یا جوج اور ماجوج کی دیوار میں اتنا شگاف ہو گیا ہے اور آپ نے اپنے انگوٹھے اور اس انگلی سے جو اس وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذَا وَحَلَّقَ بِإِصْبَعِهِ کے ساتھ ملی ہوئی ہے، حلقہ بنا کر بتایا کہ اس وَبِالَّتِي تَلِيْهَا فَقَالَتْ زَيْنَبُ فَقُلْتُ يَا قدر ) حضرت زینه زینب کہتی تھیں: میں نے کہا: رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِكُ وَفِيْنَا الصَّالِحُوْنَ يا رسول اللہ ! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے جبکہ قَالَ نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ۔ اطرافه ۳۳۴۶، ۷۰۵۹، ۷۱۳۵ ہمارے اندر نیک آدمی بھی موجود ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا: ہاں جب گند بہت ہو جائے۔ ٣٥٩٩ : وَعَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَتْنِي ۳۵۹۹ اور زہری سے مروی ہے کہ ہند بنت هِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حارث نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ام سلمہ