صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 96
صحیح البخاری جلدی ۹۶ ۶۱ - كتاب المناقب الرَّجُلَ يُخْرِجُ مِلْءَ كَفِّهِ مِنْ ذَهَبٍ سونا یا چاندی نکالے گا اور ایسے شخص کو تلاش کر رہا أَوْ فِضَّةٍ يَطْلُبُ مَنْ يَقْبَلُهُ مِنْهُ فَلَا ہو گا جو اس سے ہو گا جو اس سے وہ قبول کرے اور وہ کسی کو بھی نہ يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهُ مِنْهُ وَلَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ پائے گا جو اُس سے اس کو لے اور تم میں سے ایک اللہ سے اس روز ضرور ملے گا جس روز کہ وہ أَحَدُكُمْ يَوْمَ يَلْقَاهُ وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ اس سے ملے گا۔ حالت یہ ہوگی کہ اس کے اور تَرْجُمَانٌ يُتَرْجِمُ لَهُ فَيَقُولَنَّ أَلَمْ أَبْعَثْ اللہ کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہو گا جو اس کے لئے ترجمانی کرے اور وہ فرمائے گا: کیا میں نے إِلَيْكَ رَسُوْلًا فَيُبَلِّغَكَ فَيَقُوْلُ بَلَى تیرے پاس رسول نہیں بھیجا جو تجھے میرا حکم فَيَقُوْلُ أَلَمْ أُعْطِكَ مَالًا وَأُفْضِلُ پہنچائے ؟ تو وہ کہے گا: کیوں نہیں، ضرور بھیجا ہے عَلَيْكَ فَيَقُوْلُ بَلَى فَيَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهِ اور وہ فرمائے گا: کیا میں نے تجھے مال نہیں دیا تھا اور تجھ پر فضل نہیں کیا تھا۔ وہ کہے گا: کیوں فَلَا يَرَى إِلَّا جَهَنَّمَ وَيَنْظُرُ عَنْ نہیں، ضرور کیا تھا۔ پھر وہ اپنی دائیں طرف دیکھے يَسَارِهِ فَلَا يَرَى إِلَّا جَهَنَّمَ قَالَ عَدِيٌّ گا تو جہنم ہی دیکھے گا اور اپنی بائیں طرف دیکھے سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ گا تو جہنم ہی دیکھے گا۔ عدی کہتے تھے : میں نے يَقُولُ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ نبی صلی علیم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: آگ سے بچو خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا دے کر ؛ اور جو کھجور کا فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ شِقَّ تَمْرَةٍ فَبِكَلِمَةٍ ایک ٹکڑا نہ پائے تو وہ اچھی بات سے ہی۔ عدی طَيِّبَةٍ قَالَ عَدِيٌّ فَرَأَيْتُ الظَّعِيْنَةَ کہتے تھے: چنانچہ میں نے عورت سوار دیکھی جو تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِيْرَةِ حَتَّى تَطُوفَ حیرہ سے چل کر آئی اور کعبہ کا طواف کرتی۔ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتی اور میں بھی ان لوگوں بِالْكَعْبَةِ لَا تَخَافُ إِلَّا اللَّهَ وَكُنْتُ میں سے تھا جنہوں نے کسرای بن ہرمز کے فِيْمَنِ افْتَتَحَ كُنُوزَ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ خزانے فتح کئے اور اگر زندگی تمہاری لمبی ہوئی تو وَلَئِنْ طَالَتْ بِكُمْ حَيَاةٌ لَتَرَوُنَّ مَا تم بھی ضرور ان باتوں کو پورا ہوتے دیکھ لوگے جو اس نبی ابو القاسم صلی الم نے فرمائی ہیں ، یعنی یہ کہ قَالَ النَّبِيُّ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ ایک آدمی مٹھی بھر (سونا چاندی) لے کر نکلے گا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْرِجُ مِلْءَ كَفِّهِ۔ اور کوئی اس کو قبول نہ کرے گا۔) اطرافه: ۱۴۱۳، ۱۴۱۷، ۶۰۲۳، ۶۵۳۹ ، ۶۵۴۰، ۶۵۶۳، ۷۴۴۳، ۷۵۱۲