صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 93
صحیح البخاری جلد ۹۳ ۶۱ - كتاب المناقب مِنَ الْأَعَاجِمِ حُمْرَ الْوُجُوهِ فُطْسَ کرمان یا خوزستان) سے نہ لڑو، یعنی ان اعجمیوں الْأُتُوْفِ صِغَارَ الْأَعْيُنِ كَأَنَّ وُجُوْهَهُمُ سے جن کے چہرے سرخ، ناک پھیلے ہوئے، آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہیں گویا ان کے چہرے الْمَجَانُ الْمُطْرَقَةُ نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ۔ڈھالیں ہیں جن پر تہہ بہ تہہ چمڑہ چڑھا ہوتا ہے۔ان کے جوتے بالوں کے ہوں گے۔تَابَعَهُ غَيْرُهُ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔(یحی) کے سوا اس حدیث کو اوروں نے بھی عبد الرزاق سے نقل کیا ہے۔اطرافه ۲۹۲۸، ۲۹۲۹، ۳۵۸۷، ۳۵۹۱۔٣٥٩١ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۳۵۹۱ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ قَالَ إِسْمَاعِيلُ کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا، کہا کہ قَيْسٌ قَالَ أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ اسماعیل نے بتایا کہ قیس نے مجھے خبر دی، کہا کہ أَخْبَرَنِي حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس ہم آئے تو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ صَحِبْتُ وہ کہنے لگے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ساتھ تین برس رہا۔اپنے ان تین برسوں میں ثَلَاثَ سِنِيْنَ لَمْ أَكُنْ فِي سِنِيَّ میں کسی بات پر بھی اتنا حریص نہ تھا جیسا کہ اس أَحْرَصَ عَلَى أَنْ أَعِيَ الْحَدِيثَ مِنِّي بات پر کہ میں آپ کی باتیں یاد رکھوں۔میں نے آپ کو فرماتے سنا اور آپ نے اپنے ہاتھ سے فِيْهِنَّ سَمِعْتُهُ يَقُوْلُ وَقَالَ هَكَذَا بيَدِهِ یوں اشارہ کیا۔فرمایا: اس گھڑی سے پہلے تم ایسے بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا لوگوں سے لڑو گے جن کے جوتے بالوں کے ہیں نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ وَهُوَ هَذَا الْبَارِزُ۔اور وہ یہ بارز لوگ ہیں۔اور سفیان نے ایک وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً وَهُمْ أَهْلَ الْبَازر۔مرتبہ یوں کہا کہ وہ بازر کے لوگ ہیں۔اطرافه: ۲۹۲۸، ۲۹۲۹، ۳۵۸۷، ۳۵۹۰ ٣٥٩٢: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ :۳۵۹۲ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ جریر بن حازم نے ہمیں بتایا کہ میں نے حسن سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ حَدَّثَنَا عَمْرُو (بصرى) سے سنا۔وہ کہتے تھے: حضرت عمردؓ بْنُ تَغْلِبَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ بن تغلب نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے