صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 91
صحیح البخاری جلدی ۹۱ ۶۱ - كتاب المناقب فَقَالَ حُذَيْفَةُ أَنَا أَحْفَظُ كَمَا قَالَ طرح آپ نے فرمایا تھا۔ حضرت عمر نے کہا: آئیں قَالَ هَاتِ إِنَّكَ لَجَرِيءٌ قَالَ رَسُوْلُ بیان کریں، آپ تو بڑا ہے دلیر ہیں۔ (حضرت حذیفہ نے کہا : رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا: وہ فتنہ جو کہ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِتْنَةُ الرَّجُلِ مرد کو اس کی بیوی یا اس کے مال یا اس کے ہمسایہ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا کی وجہ سے پیش آتا ہے، نماز پڑھنے اور صدقہ الصَّلَاةُ وَالصَّدَقَةُ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ دینے اور بھلی بات کا حکم کرنے اور بُری بات سے روکنے سے اس کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ حضرت عمرؓ نے وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ قَالَ لَيْسَتْ هَذِهِ کہا: میری مراد اس فتنہ سے نہیں بلکہ بلکہ وہ فتنہ جو وَلَكِنِ الَّتِي تَمُوْجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ سمندر کی موج کی طرح ٹھاٹھیں مارے گا۔ حضرت قَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَا بَأْسَ عَلَيْكَ حذیفہ نے کہا: امیر المومنین! اس فتنہ سے آپ کو مِنْهَا إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا وئی ڈر نہیں۔ آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: یہ دروازہ رقم قَالَ يُفْتَحُ الْبَابُ أَوْ يُكْسَرُ قَالَ لَا کھولا جائے گا یا تو ڑا جائے گا؟ حضرت حذیفہ نے بَلْ يُكْسَرُ قَالَ ذَاكَ أَحْرَى أَنْ لَّا کہا: نہیں بلکہ توڑا جائے گا۔ حضرت عمرؓ نے کہا: پھر يُغْلَقَ قُلْنَا عَلِمَ {عُمَرُ الْبَابَ قَالَ یہ دروازہ تو تو بھی بھی بند نہیں ہونے کا۔ ہم ۔ نے (حضرت حذیفہ سے) پوچھا: کیا { حضرت عمر کو } نَعَمْ كَمَا أَنَّ دُوْنَ غَدٍ اللَّيْلَةَ إِنِّي اس دروازہ کا علم تھا؟ کہا: ہاں، اسی طرح جس حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيْطِ فَهِبْنَا طرح یہ علم تھا کہ کل کی صبح سے پہلے رات ہے۔ أَنْ نَّسْأَلَهُ وَأَمَرْنَا مَسْرُوقًا فَسَأَلَهُ میں نے ان سے ایک ایسی حدیث بیان کی جو غلط فَقَالَ مَنِ الْبَابُ قَالَ عُمَرُ۔ باتوں میں سے نہ تھی۔ (ابو وائل کہتے تھے کہ ) ہم رض اطرافه ۵۲۵، ۱۴۳۵، ۱۸۹۵، ۷۰۹۶ جھینے کہ حضرت حذیفہ سے پوچھیں اور ہم نے مسروق سے کہا تو انہوں نے ان سے پوچھا کہ وہ دروازہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا: حضرت عمر ٣٥٨٧ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۳۵۸۷: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ شعیب نے ہمیں بتایا: ابو زناد نے ہم سے بیان کیا۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَن انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ ۱- یہ لفظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ۶ حاشیہ صفحہ ۷۳۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔