صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 91
صحيح البخاری جلد ۶ ۹۱ ۵۹ - كتاب بدء الخلق کا عذاب بھی مقدر) ہے اور (وہاں) اسے تیز گرم پانی پلایا جائے گا۔وہ اسے تھوڑا تھوڑا کر کے پئے گا اور اسے آسانی سے نگل نہیں سکے گا اور ہر جگہ اور ہر طرف سے) اس پر موت آئے گی اور وہ مرے گا نہیں اور اس کے علاوہ بھی (اس کے لئے) ایک سخت عذاب ( مقرر ) ہے۔علامہ ابن حجر نے مذکورہ بالا سزا سے متعلق یہ سوال اُٹھایا ہے کہ سورۃ الغاشیہ آیت سے میں ہے: لَيْسَ لَهُمُ طَعَامٌ إِلَّا مِنْ ضَرِيع کہ انہیں صرف تھوہر کا کھانا ملے گا تو دونوں کا تطابق کیا ہے؟ اس کا جواب انہوں نے یہ دیا ہے کہ اہل النار کے کھانے حسب اختلاف حالات مختلف ہوں گے۔ان دونوں آیتوں میں تعارض نہیں۔(فتح الباری جزء 4 صفحہ ۳۹۹) عنوانِ باب میں بعض الفاظ کے جو حوالے دیئے گئے ہیں اردو ترجمہ میں واضح کئے گئے ہیں۔جن صحابہ یا تابعین سے ان کے معانی مروی ہیں، امام ابن حجر نے فتح الباری میں ان کے ماخذ کا ذکر کیا ہے وہ اپنے موقع محل پر دیکھے جاسکتے ہیں۔محولہ آیات سے دوزخ کی حالت اور کیفیت کا علم ہوتا ہے۔عنوانِ باب صِفَةُ النَّار کا ترجمہ لفظ ” بیان سے کیا گیا ہے جو باب وَصَفَ يَصِفُ وَصْفًا وَصِفَةً سے مصدر ہے۔اس کا صحیح مترادف بیان، حالت و کیفیت ہی ہے۔سابقہ باب میں بتایا جا چکا ہے کہ جنت و نار کا بیان تشبیہی تمثیلی ہے۔ان کی کیفیت کا بیان ان اسماء و اسلوب زبان کے بغیر جس سے ہم مانوس ہیں، اصل حقیقت کا تصور ممکن نہیں۔جن آیات کے مشکل الفاظ کا حل کیا گیا ہے، ان میں سے ایک وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مَّارِجٍ مِنْ نَّارٍ (الرحمن (۱۲) ہے۔الْجَانُ اِنس کے مقابل کا لفظ ہے۔انس وہ طبقہ بشریہ جس میں مانوس ہونے اور ضابطہ کی پابندی کرنے کی صلاحیت ہو اور لفظ مارِج سے خلقت جان کے بارے میں جو لغوی شرح کی گئی ہے، اس سے اس طبقہ بشری کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے جس کی طبیعت ناری ہے اور اپنے قوائے غضب یہ میں حدود سے نکلنا اور تمزد اختیار کرنا اس طبقہ کا خاصہ ہے۔اس آیت سے ماقبل آیات کے الفاظ دیکھیں تو وہ سب اضداد ہیں جن میں تقابل پایا جاتا ہے:۔1) النَّجمُ (پودے اور بوٹیاں) الشَّجَرُ ( تناور درخت) ) وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا (فضا جسے بلند کیا) اس کے مقابل وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا (زمین جسے پست رکھا) ٣) فَاكِهَةٌ (كل) وَالنَّخْلُ ذَاتُ الأَكْمَامِ (کھجور جو گھردری ہے اور اس میں خوشے ہیں) (٢) وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ (گھردرے دانے، اناج ) اور اس کے مقابل میں وَالرَّيْحَانُ خوشبو دار نازک پھول اور پودے جن کی شکل و خوشبو میں لطافت ہی لطافت ہے۔ہمقابل ان اشیاء کے جن کا ذکر الریحان سے پہلے ہے۔یہ سارا سلسلہ تخلیق مجموعہ اضداد و تقابل ہے۔ان آیات کی ابتداء جو بلحاظ الفاظ و معانی اضداد مفہوم کی متضمن ہیں، آیت الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانِ (الرحمن : ۶) سے فرمائی ہے۔سورج وچاند معین حساب و اندازہ سے پیدا کئے گئے ہیں۔ایک کا تعلق دن سے ہے دوسرے کا تعلق رات سے۔ان کا تعلق نہ صرف روشنی و تاریکی سے ہے بلکہ حرکت و سکون، بعد وقرب اور طلوع و غروب کے نظارے ان کی حرکت سے وابستہ ہیں۔جو از قسم اضداد ہیں۔سورج اور چاند کے ایک معین حساب سے حرکت و دوران سے جہات اربعہ (مشرق و مغرب اور جنوب و شمال ) کی سمتیں متعین ہوتی ہیں اور یہ بھی