صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 92
صحيح البخاری جلد ۶ ۹۴ ۵۹ - كتاب بدء الخلق از قبیل اضداد ہیں۔بلکہ انسان میں ابعا دستہ کا شعور بھی اسی نظام شمسی سے پیدا ہوا ہے۔اس نظام اضداد نے انسان میں انتباہ و احساس اور اس کے خوابیدہ قومی میں بیداری پیدا کی اور آخر وہ کائنات کو پڑھنے اور پھر خواص الاشیاء بیان کرنے کے قابل ہوا۔گویا ان اضداد نے انسان کی سوئی ہوئی قوتوں پر پر کار کا سا کام کیا ہے جس سے وہ بیدار ہو کر اپنے ماحول کی کائنات کی طرف متوجہ ہوا اور یہ رحمانی تخلیق اس کے لئے بہت سے انعامات کا منبع ثابت ہوئی۔یہ سیاق کلام ہے آیات اقبل خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِهِ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍه (الرحمن : ۱۶،۱۵) کا۔انسان وہ طبقہ بشری ہے جو طینی ہیولائے فطرت یعنی اطاعت والی طبیعت رکھتا ہے اور جان وہ طبقہ بشری ہے جو ناری طبیعت سے مخصوص ہے۔اس طبعی فرق کو امام بخاری نے روایات کی بناء پر نمایاں کیا ہے اور لفظ مارِج کے اشتقاق کا ذکر ضمنی ہے۔فَتَدَبَّرِ الْآيَاتِ الْبَيِّنَاتِ سیاق کلام میں خلقت انسان کے دو وصف بیان ہوئے ہیں، ایک پڑھنا اور دوسرا بیان کرنا۔سو ان دونوں وصفوں کا ظہور نظام اضداد کے ذریعہ سے ہوا ہے۔آیا امام بخاری کے ذہن میں سورۃ الرحمن کی مذکورہ بالا آیات سے متعلق یہ مفہوم تھا یا نہیں ؟ میں اس بارہ میں کچھ نہیں کہتا۔لیکن اس میں قطع شبہ نہیں کہ آیت خَلَقَ الْجَانَّ سے وہ یہی سمجھتے ہیں کہ اس سے مراد طبقہ بشریہ کی ناری طبیعت رکھنے والی غیر متمدن جنس ہے جو انسانی جنس کے مقابل پر ہے جس کی فطرت میں اطاعت پائی جاتی ہے اور وہ گیلی مٹی کی طرح جس شکل میں منتقل کرنا چاہو ڈھائی جاسکتی ہے۔لفظ قُرآنَ قَرَأَ کا مصدر ہے۔قِرَاءَةً وَقُرُانا کے معنی ہیں پڑھنا۔خود قرآن مجید میں بھی القُرآن پڑھنے کے معنوں میں وارد ہوا ہے۔دیکھئے سورۃ یونس : ۱۶ سورة حم السجدة: ۴۵ سورة القيامة : ۱۹۔مذکورہ بالا تفسیر آیات نظام مادی کے پڑھنے اور بیان کرنے سے متعلق ہے۔قرآن مجید دونوں قسم کے نظاموں سے متعلق بیان پر مشتمل ہے اور سورة القيامة میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا گیا ہے : لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ هِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ ، فَإِذَا قَرَأْنَهُ فَاتَّبِعُ قُرْأَنَهُ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ (القيامة : ۱۷ تا ۲۰ ان آیات میں آپ سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اس قرآن کا بیان کرنا ہمارے ذمہ ہے اور سورۃ الرحمن کی ابتدائی آیات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر بھی نازل ہوئیں۔( تذکرہ الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحه ۳۵، ۳۱۵،۲۹۶،۲۹۴۱۷۸، ۵۳۸) جس سے ظاہر ہے کہ قرآن مجید کے معارف بیان کرنے کے لئے بھی ایک معین انسان پیدا کئے جانے کا وعدہ سورۃ الرحمن کی ابتدائی آیات میں مضمر ہے جو تفصیل طلب ہے۔یہاں موضوع ابواب یہ نہیں بلکہ بَدَءُ الْخَلْق ہے اور انسان کی پیدائش کا ذکر ہے۔اس لئے امام بخاری کی جان سے متعلق مارج کی لغوی شرح کے پیش نظر اور ان کے نقطہ نگاہ کی تائید میں آیات کا وہ سیاق کلام پیش کیا گیا ہے جس کا تعلق مادی نظام عالم سے ہے۔☆ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " تو اس کی قرآت کے وقت اپنی زبان کو اس لیے تیز حرکت نہ دے کہ تو اسے جلد جلد یاد کرے۔یقینا اس کا جمع کرنا اور اس کی تلاوت ہماری ذمہ داری ہے۔پس جب ہم اسے پڑھ چکیں تو تو اس کی قرآت کی پیروی کر۔پھر یقینا اس کا واضح بیان بھی ہمارے ہی ذمہ ہے۔“