صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 90
صحيح البخاری جلد ۶ 9+ ۵۹ - كتاب بدء الخلق إِنَّهُ خَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ جس کو پہلے میں ہی کھولنے والا بنوں اور میں ایک بات رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے بعد جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی کسی آدمی قَالُوْا وَمَا سَمِعْتَهُ يَقُوْلُ قَالَ سَمِعْتُهُ سے متعلق بھی یہ نہیں کہوں گا کہ وہ تمام لوگوں سے بہتر يَقُوْلُ يُجَاءُ بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ہے خواہ میرا امیر ہی ہو۔لوگوں نے پوچھا: آپ نے آنحضرت علہ کو کیا فرماتے سنا؟ انہوں نے کہا: میں فَيُلْقَى فِي النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُهُ فِي نے آپ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ قیامت کے روز ایک النَّارِ فَيَدُورُ كَمَا يَدُورُ الْحِمَارُ شخص لایا جائے گا اور وہ آگ میں ڈالا جائے گا تو اس برَحَاهُ فَيَجْتَمِعُ أَهْلُ النَّارِ عَلَيْهِ کی انتڑیاں جلد سے باہر نکل کر آگ میں ڈھلک پڑیں فَيَقُوْلُوْنَ أَي فَلَانُ مَا شَأْنُكَ أَلَيْسَ گی اور وہ چکر کھائے گا جیسے گدھا اپنی چکی کے ارد گرد كُنْتَ تَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَانَا چکر کھاتا ہے۔یہ دیکھ کر دوزخی اس کے پاس اکٹھے عَنِ الْمُنْكَرِ قَالَ كُنْتُ آمُرُكُمْ ہو جائیں گے اور کہیں گے: ارے فلاں! تیری یہ کیا حالت ہے؟ کیا تو ہمیں بھلائی کا حکم نہیں کرتا تھا اور برائی بِالْمَعْرُوْفِ وَلَا آتِيْهِ وَأَنْهَاكُمْ عَن سے نہیں روکتا تھا؟ وہ کہے گا: میں تمہیں بھلائی کا حکم کرتا الْمُنْكَرِ وَآتِيْهِ۔رَوَاهُ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ تھا اور خود بھلائی نہیں کرتا تھا اور برائی سے تمہیں روکتا تھا اور خود برائی کرتا تھا۔اس حدیث کو مندر نے بھی شعبہ عَنِ الْأَعْمَشِ۔طرفه ۷۰۹۸ تشریح: سے اور شعبہ نے اعمش سے روایت کیا ہے۔صِفَةُ النَّارِ وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ : به عنوان باب بھی مثل عنوانِ باب ۸ ہے۔جنت ونار کے بارے میں معتزلہ کی ایک ہی رائے ہے اور امام بخاری نے ان کا رڈ ایک ہی طریق سے کیا ہے۔یعنی ان کے مخلوق ہونے اور ان کا وجود آیات واحادیث سے ثابت کیا ہے۔عشاق کی محولہ بالا تشریح مشہور لغوی ابو عبیدہ کی ہے۔عشاق کے معنی ہیں نہایت سرد جو شدت سردی سے جلا دے۔یہ معنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں۔(فتح الباری جزء 4 صفحہ ٣٩٩) وَلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِین۔پیپ نکنے کی سزا اس دنیا میں بھی آتشک کے بیمار کو ملتی ہے۔جب بیماری کا اثر ناک وحلق تک پہنچتا ہے تو غذا یا پینے کی جو چیز حلق یا پیٹ میں اُترتی ہے تو وہ زخم کی پیپ سے مخلوط ہوتی ہے۔ایسے بیمار کا ہر گھونٹ نہایت تلخ اور عبرت انگیز ہوتا ہے۔موت کی خواہش کرتا ہے اور اس کی یہ خواہش بھی پوری نہیں ہوتی۔فرماتا ہے : مِنْ وَرَائِهِ جَهَنَّمُ وَيُسْقَى مِنْ مَّاءٍ صَدِيدِهِ يَتَجَرَّعُهُ وَلَا يَكَادُ يُسِيعُهُ وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلَّ مَكَانٍ وَّمَا هُوَ بِمَيِّتِ وَمِنْ وَرَائِهِ عَذَابٌ غَلِي ) (إبراهيم: ۱۸،۱۷) اس دنیوی عذاب ) کے بعد (اس کے لئے ) جہنم