صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 85
صحيح البخاری جلد ٦ ۸۵ ۵۹- كتاب بدء الخلق حَطَبْ بِالْحَبَشِيَّةِ۔وَقَالَ غَيْرُهُ لکڑی کو کہتے ہیں۔اور ( عکرمہ کے علاوہ ) دوسروں حَاصِبًا (الملك: ١٨) الرّيْحُ الْعَاصِفُ نے کہا کہ حَاصِبا کے معنی ہیں جھکڑ۔اور حَاصِب وَالْحَاصِبُ مَا تَرْمِي بِهِ الرِّيْحُ وَمِنْهُ ان چیزوں کو بھی کہتے ہیں جو آندھی لا کر پھینکتی ہے حَصَبُ جَهَنَّمَ يُرْمَى بِهِ فِي جَهَنَّمَ، اور اس سے حَصَبُ جَهَنَّم ہے یعنی جو جہنم میں پھینکا هُمْ حَصَبُهَا وَيُقَالُ حَصَبَ فِي جائے گا۔(اور آیت کے معنی یہ ہیں کہ ) وہ لوگ الْأَرْضِ ذَهَبَ وَالْحَصَبُ مُشْتَقٌ مِنْ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔کہا جاتا ہے : حَصَبَ فِي الأرض یعنی زمین میں چلا گیا اور حصب مشتق ہے حَصْبَاءِ الْحِجَارَةِ۔صَدِيدٍ (إبراهيم: ۱۷) حَصْبَاءِ الْحِجَارَةِ سے (یعنی پتھریلی کنکریاں۔) قَيْحٌ وَدَمٌ۔خَبَتْ (بني إسرائيل: ٩٨) صدِید کے معنی ہیں پیپ اور خون۔خَبَت کے معنی طَفِئَتْ۔تُوْرُونَ (الواقعة: ۷۲) ہیں بجھ جائے۔تُورُونَ کے معنی ہیں تم نکالتے ہو۔تَسْتَخْرِجُوْنَ أَوْرَيْتُ أَوْقَدْتُ أَوْرَيْتُ کے معنی ہیں او قَدْتُ میں نے آگ سلگائی۔لِلْمُقْوِينَ (الواقعة: ٧٤) لِلْمُسَافِرِيْنَ لِلْمُقْوِین کے معنی ہیں مسافروں کیلئے جو بے آب و گیاہ زمین میں اُتریں اور قی کے معنی ہیں غیر آباد جگہ۔وَالْقِيُّ الْقَفْرُ۔وَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : صِرَاط اور حضرت ابن عباس نے کہا: صِرَاطِ الْجَحِيمِ الْجَحِيمِ (الصافات: ٢٤) سَوَاءُ کے معنی ہیں جہنم کے وسط میں۔لَشَوُبًا مِّنْ حَمِيمٍ الْجَحِيمِ وَوَسَطُ الْجَحِيْمِ۔لَشَوْبًا کے معنی ہیں کہ ان کے کھانے میں کھولتا ہوا گرم پانی مِنْ حَمِيمٍ (الصافات: ٦٨) يُخْلَطُ ملایا جائے گا۔زفیر کے معنی ہیں چیخ و پکار اور شَهِیق طَعَامُهُمْ وَيُسَاطُ بِالْحَمِيْمِ۔زَفِیر کے معنی ہیں دھیمی آواز۔وِرُدا کے معنی پیا سے۔غَيًّا شَهِيقٌ (هود: ۱۰۷) صَوْتُ شَدِيدٌ کے معنی ہیں خسارہ۔وَصَوْتٌ ضَعِيفٌ۔وِرُدًا (مریم: ۸۷) عِطَاشًا۔غَيَّا (مريم: ٦٠) خُسْرَانًا۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ يُسْجَرُونَ (المؤمن: (۷۳) اور مجاہد نے کہا: يُسْجَرُونَ کے معنی ہیں انہیں آگ