صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 84 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 84

صحيح البخاری جلد 4 لَا يَدْخُلُهُ إِلَّا الصَّائِمُونَ۔طرفه: ١٨٩٦- تشریح: ۸۴ ۵۹- كتاب بدء الخلق اس میں سے صرف روزہ رکھنے والے ہی داخل ہونگے۔صِفَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ: عنوان کے بعد فِيهِ عُبَادَہ کہہ کر اس روایت کی طرف اشارہ کیا ہے جو امام موصوف نے کتاب احادیث الانبیاء ( باب ۴۷) میں بسند جنادہ بن ابی امیہ حضرت عبادہ بن صامت سے موصولاً نقل کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ شَهِدَ أنْ لا إلهَ إِلَّا اللَّهُ۔۔۔أَدْخَلَهُ اللَّهُ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ أَيُّهَا شَاءَ - جس نے شہادت دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اللہ اسے جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جہاں سے چاہے گا، وہاں سے داخل کرے گا۔(دیکھئے روایت نمبر ۳۴۳۵) اس بارے میں صحاح ستہ میں بھی مختلف سندوں سے ہم معنی روایتیں منقول ہیں۔ایک روایت یہ بھی ہے : إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مَسِيْرَةَ أَرْبَعِينَ سَنَةٌ * دروازہ جنت کے دو کواڑوں میں چالیس سال کی مسافت کا فاصلہ ہو گا۔مسلم میں بھی اس کے ہم معنی روایت ہے جو موقوف ہے، مرفوع یا موصول نہیں۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۳۹۶) اور اگر یہ روایت صحیح بھی ہو تو از قبیل تمثیل متصور ہوگی۔اس تعلق میں کتاب الصوم باب ہم بھی دیکھئے۔باب ۱۰ : صِفَةُ النَّارِ وَأَنَّهَا مَخْلُوْقَةٌ دوزخ کا بیان اور یہ کہ وہ مخلوق ہے غَسَّاقَا (النبأ: ٢٦) يُقَالُ غَسَقَتْ عَيْنُهُ غَسَّاقًا غَسَقَ يَغْسِقُ سے ہے۔کہتے ہیں: غَسَقَتْ وَيَغْسِقُ الْجُرْحُ وَكَأَنَّ الْغَسَاقَ عَيْنُهُ اس کی آنکھ سے آنسو ہے۔اسی طرح وَالْغَسِيْقَ وَاحِدٌ غِسْلِيْنِ (الحاقة :۳۷) کہتے ہیں: يَغْسِقُ الْجُرُحُ زخم پیپ سے بہہ رہا ہے اور عشاق اور عسیق معنی کی رو سے ایک ہی ہیں۔كُلُّ شَيْءٍ غَسَلْتَهُ فَخَرَجَ مِنْهُ شَيْءٌ فَهُوَ غِسْلِيْنُ فِعْلِيْنُ مِنَ الْغَسْلِ مِنَ الْجُرْح وَالدَّبَرِ۔اور غسلین ہر شئے جس کو تو دھوئے جیسے آدمی یا اونٹ کا زخم اور اس سے کچھ نکلے تو یہ دھوون غسلین ہے۔یہ لفظ غسل سے فِعْلِین کے وزن پر ہے۔(یعنی روزخیوں کا کھانا پیپ کی دھوون ہوگی۔) وَقَالَ عِكْرِمَةُ حَصَبُ جَهَنَّمَ (الأنبياء: ۹۹) اور عکرمہ نے کہا: حصب حبشی زبان میں ایندھن کی (مسلم، كتاب الزهد والرقائق، بابا) (مسند أحمد بن حنبل، مسند أبي سعيد الخدري، جزء۳ صفحه ٢٩) (مسند أحمد بن حنبل، مسند الشاميين، حديث عتبة بن غزوان، جز ۴ صفحه ۱۷۴) (مسند أحمد بن حنبل، مسند الكوفيين حديث بهز بن حکیم، جزء ۵ صفح۳)