صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 82 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 82

صحيح البخاری جلد ٦ ج Ar ۵۹ - كتاب بدء الخلق کے لغوی معنی بتائے گئے ہیں جو مختلف آیات میں وارد ہوئے ہیں اور مجاہد سے مروی ہیں۔ان سے جنت کی صورت و شکل اور اس کے اوصاف کا علم ہوتا ہے۔اور شروع باب میں آیت كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا۔۔۔( البقرة : ۲۲) کا حوالہ دیا گیا ہے۔تا مد نظر رہے کہ صرف نام کا اشتراک ہے۔جنت کی نعمتیں مَا لَا يُتَصَوَّرُ وَلَمْ يَخُطُرُ بِبَالِ أَحَدٍ کا مصداق ہیں۔ان کا تصور اس زندگی میں نہیں کیا جاسکتا ، سوا اس کے کہ موعودہ نعمتیں دنیا کی نعمتوں کے مشابہ ہوں گی۔جیسا کہ حضرت ابن عباس کا اس بارے میں یہ قول مروی ہے : لَيْسَ فِي الدُّنْيَا مِمَّا فِي الْجَنَّةِ إِلَّا الْأسْمَاءَ ( فتح الباری جزء ۱ صفحه ۳۸۶) یعنی صرف نام کا اشتراک ہے۔ان نعمتوں کی حقیقت کچھ اور ہی ہوگی۔اللہ تعالیٰ سورۃ السجدہ میں فرماتا ہے: فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ : جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ) (السجدة: (۱۸) اور ( حقیقت یہ ہے کہ ) کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان (مومنوں) کے لئے ان کے اعمال کے بدلہ میں کیا کیا آنکھیں ٹھنڈی کرنے والی چیزیں (جنت میں ) چھپا کر رکھی گئی ہیں۔اور حدیث نبویہ میں بھی ہے: مَا لَا عَيْنٌ رَأْتُ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ - وہ نعمتیں نہ آنکھ نے دیکھیں ، نہ کان نے سنیں اور نہ ان کا خیال دل میں گزرا۔(روایت نمبر ۳۲۳۴) آیت وَأَتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا کی شرح کے لئے دیکھئے اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلده اصفحه ۳۹۸ تا ۴۰۰۔أَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ : امام ابن حجر کی رائے ہے کہ عنوانِ باب کے دوسرے حصہ سے معتزلہ کا عقیدہ رڈ کرنا مقصود ہے جن کے نزدیک جنت قیامت کے روز وجود میں لائی جائے گی ، اس وقت موجود نہیں۔امام ابن حجر نے أَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ کے معنى أَنَّهَا مَوْجُودَةٌ کئے ہیں اور لکھا ہے کہ باب کے تحت بہت سی روایات نقل کی گئی ہیں بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت موجود ہے اور بعض میں ہے کہ وہ مخلوق ہے۔نیز حضرت ابو ہریرہ کی روایت جو امام احمد بن حنبل اور ابو داؤد نے قومی سند سے نقل کی ہے اس کے یہ الفاظ ہیں : عَنِ النَّبِيِّ الله ﷺ قَالَ لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ قَالَ لِجِبْرِيلَ اذْهَبُ فَانظُرُ إِلَيْهَا یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: جب اللہ نے جنت پیدا کی تو جبریل سے فرمایا: جاکر اسے دیکھو۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۳۸۵) باب ہذا کی روایت نمبر ۳۲۴۰ سے ظاہر ہے کہ انسان کی موت کے ساتھ جنت یا دوزخ موجود ہوتی ہے اور روایت نمبر۳۲۲۲٬۳۲۴۱ سے پایا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دفعہ جنت میں اور دوزخ میں مرد اور عورتیں دکھائی گئیں اور ایک بار جنت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا محل بھی دکھایا گیا۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ موجود تھے اور یہ سب قدرت الہی کی تخلیق کا ایک نیا نمونہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کتاب دافع الوساوس ( آئینہ کمالات اسلام ) میں تفصیل وبسط سے فرماتے ہیں کہ خلاق علیم کی صفت خلق کی عجیب تجلی ہوگی جس کے نمونے عارفوں کو اسی دنیا میں بحالت کامل بیداری دکھائے جاتے ہیں۔(دیکھئے آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۴۸ تا ۱۵۳) روایات زیر باب میں بیان کردہ نظارے از قبیل مکاشفہ اور تمثلات ہیں۔ان سب کو آیت وَأَتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا اور (سنن أبى داود، كتاب السنة، باب في خلق الجنة والنار) (مسند احمد بن حنبل، مسند أبي هريرة، جزء ۲ صفحه ۳۳۲)