صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 81
صحيح البخاری جلد ۲ M ۵۹ - كتاب بدء الخلق ٣٢٥٦: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ ۳۲۵۶ : عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ کہا: مالک بن انس نے مجھے بتایا۔ انہوں نے صفوان عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ بن سلیم سے ، صفوان نے عطاء بن یسار سے، عطاء خدری رضی اللہ عنہ سے، حضرت يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ نے حضرت ابو سعید خد مد کی کہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله ابوسعید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ آپؐ نے فرمایا: جنت والے بالا خانوں میں رہنے والوں کو اپنے اوپر اسی طرح دیکھیں گے کہ جس طرح يَتَرَاءَيُوْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ كَمَا وہ اس چمک دار ستارے کو دیکھتے ہیں جو مشرق یا يَتَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدَّرِّيَّ الْغَابِرَ فِي مغرب کی طرف افق پر پیچھے رہ گیا ہو۔ کیونکہ ان کے الْأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ درمیان بھی درجوں میں تفاوت ہوگی ۔ صحابہ نے کہا: لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمْ قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللهِ يا رسول اللہ ! وہ تو انبیاء کے مقام ہوں گے۔ کیا ان تِلْكَ مَنَازِلُ الْأَنْبِيَاءِ لَا يَبْلُغُهَا غَيْرُهُمْ کے سوا اور کوئی وہاں نہیں پہنچے گا ؟ آپ نے فرمایا: قَالَ بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ رِجَالٌ کیوں نہیں بلکہ اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں آمَنُوْا بِاللَّهِ وَصَدَّقُوْا الْمُرْسَلِيْنَ۔ میری جان ہے وہ لوگ بھی ہوں گے جو اللہ پر ایمان طرفه: ٦٥٥٦- لائے اور جنہوں نے رسولوں کی تصدیق کی۔ تشريح : فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ وَ أَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ: عنوانِ باب کے دوحصے ہیں اور اس اور اس کے تحت تفسیر ابوالعالیہ کا حوالہ بابت آیت قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ (الحاقة : ۲۴) ہے۔ اس کے علاوہ دو اور آیات کے الفاظ کی بھی وضاحت درج کی ہے۔ اور حسن بصری کی تفسیر کا حوالہ بابت آیت وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا (الدھر: ۱۲) اور اس کے بعد مجاہد کے حوالے سے آیت عَيْنًا فِيهَا تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا (الدھر: (۱۹) اور آیت لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُونَ (الصافات: ۴۸) کی شرح کا ذکر ہے۔ اس طرح آیات وَ كَوَاعِبَ أَتْرَابًا وَكَأْسًا دِهَاقًا (النبأ: ۳۵،۳۴) يُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِيقٍ مَّحْتُومٍ ) خِتَامُهُ مِسْكٌ وَمِزَاجُهُ مِنْ تَسْنِيم O (المطففين: ۲۶ تا ۲۸) فِيهِمَا عَيْنَانِ نَضَّاخَتَانِ (الرحمن : ۶۷) سُرُرٍ مَّوْضُونَةٍ (الواقعة : (١٦) بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ (الواقعة: ١٩) عُرُبًا أَتْرَابًا (الواقعة : ۳۷) سے متعلق حضرت ابن عباس کی شرح کا ذکر ہے اور اس کے بعد بعض کلمات مثلاً رَوْحٌ، رَيْحَانَ، طَلْحٍ مَنْضُودٍ، عَرُب ، مَسْكُوب، فُرُشٍ مَّرْفُوعَة لَغْوًا، تَأْثِيمًا، أَفْنَانٍ، وَجَنَا الْجَنَّتَيْنِ دَانٍ اور مُدْهَامَّتَنِ