صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 81 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 81

صحيح البخاری جلد 4 Al ۵۹- كتاب بدء الخلق ٣٢٥٦: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ :۳۲۵۶ عبد العزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا، عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ کہا: مالک بن انس نے مجھے بتایا۔انہوں نے صفوان بن سلیم سے ، صفوان نے عطاء بن بیسار سے، عطاء۔عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِي نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے، حضرت النَّبِيِّ صَلَّى الله ابوسعید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ آپ نے فرمایا: جنت والے بالا خانوں میں رہنے والوں کو اپنے اوپر اسی طرح دیکھیں گے کہ جس طرح رَضِيَ يَتَرَاءَيُوْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ كَمَا وہ اس چمک دار ستارے کو دیکھتے ہیں جو مشرق یا يَتَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِيَّ الْغَابِرَ فِي مغرب کی طرف افق پر پیچھے رہ گیا ہو۔کیونکہ ان کے الْأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ درمیان بھی درجوں میں تفاوت ہو گی۔صحابہ نے کہا: لِتَفَاضُل مَا بَيْنَهُمْ قَالُوا يَا رَسُوْلَ اللهِ یا رسول اللہ! وہ تو انبیاء کے مقام ہوں گے۔کیا ان تِلْكَ مَنَازِلُ الْأَنْبِيَاءِ لَا يَبْلُغُهَا غَيْرُهُمْ کے سوا اور کوئی وہاں نہیں پہنچے گا؟ آپ نے فرمایا: قَالَ بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ رِجَالٌ کیوں نہیں بلکہ اسی ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں آمَنُوْا بِاللَّهِ وَصَدَّقُوْا الْمُرْسَلِيْنَ۔میری جان ہے وہ لوگ بھی ہوں گے جو اللہ پر ایمان لائے اور جنہوں نے رسولوں کی تصدیق کی۔طرفه: ٦٥٥٦۔تشریح : فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ : عنوانِ باب کے دو حصے ہیں اور اس کے تحت تفسیر ابوالعالیہ کا حوالہ بابت آیت قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ (الحاقة: (۲۴) ہے۔اس کے علاوہ دو اور آیات کے الفاظ کی بھی وضاحت درج کی ہے۔اور حسن بصری کی تفسیر کا حوالہ بابت آیت وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا (الدھر: ۱۲) اور اس کے بعد مجاہد کے حوالے سے آیت عَيْنًا فِيهَا تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا (الدهر: (19) اور آیت لَا فِيهَا غَوْلٌ وَّلَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَقُونَ (الصافات: ۴۸) کی شرح کا ذکر ہے۔اسی طرح آیات وَ كَوَاعِبَ أَتْرَابًا وَّكَأْسًا دِهَاقًاه (النبا ۳۵،۳۴) يُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِيْقٍ مَّحْتُومٍ خِتَامُهُ مِسْكَ۔۔۔۔وَمِزَاجُهُ مِنْ تَسْنِيمِ ) (المطففين: ۲۶ تا ۲۸) فِيهِمَا عَيْنَانِ نَضَّاخَتَانِ (الرحمن: ٦٧) سُرُرٍ مَّوْضُونَةٍ (الواقعة : ١٦) بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ (الواقعة: ١٩) عُرُبًا أَتْرَابًا (الواقعة: ۳۷) سے متعلق حضرت ابن عباس کی شرح کا ذکر ہے اور اس کے بعد بعض كلمات مثلاً رَوْحٌ، رَيْحَانَ، طَلْحٍ مَّنْضُودٍ، عُرُب مَسْكُوب، فُرُشٍ مَّرْفُوعَةٍ، لَغَوّا، تَأْثِيمًا، أَفْنَانٍ، وَجَنَا الْجَنَّتَيْنِ دَانِ اور مُدْهَامَّتِنِ