صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 77
صحيح البخاری جلد ۶ 22 ۵۹- كتاب بدء الخلق سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ لَحْمِهَا مِنَ الْحُسْنِ کی پنڈلی کا گودا پنڈلی کے گوشت میں سے دکھائی يُسَبِّحُونَ اللَّهَ بُكْرَةً وَعَشِيًّا لا دے گا۔صبح و شام وہ اللہ کی تسبیح کریں گے۔نہ وہ بیمار يَسْقَمُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا ہوں گے اور نہ رینٹھ پھینکیں گے اور نہ وہ تھوکیں گے يَبْصُقُوْنَ آنِيَتُهُمُ الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ ان کے برتن سونے چاندی کے ہوں گے اور اُن کی وَأَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ وَوَقَوْدُ کنگھیاں بھی سونے کی ہوں گی۔ان کی انگیٹھیوں کا مَجَامِرِهِمْ الْأَلُوَّةُ قَالَ أَبُو الْيَمَانِ ایند من الوہ ہوگا۔ابوالیمان نے کہا: الوہ کے معنی ہیں يَعْنِي الْعُوْدَ وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ قَالَ عود اور اُن کا پسینہ مشک کی خوشبو دے گا۔اور مجاہد مُجَاهِدٌ الْإِبْكَارُ أَوَّلُ الْفَجْرِ وَالْعَشِيُّ نے کہا: انگار کے معنی ہیں صبح سویرے اور عَشِيّ مَيْلُ الشَّمْسِ إِلَى أَنْ أُرَاهُ تَغْرُبَ۔سورج ڈھلنے سے سورج ڈوبنے تک کے وقت کو کہتے ہیں۔اطرافه ٣٢٤٥، ٣٢٥٤ ٣٣٢٧۔٣٢٤٧: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ۳۲۴۷ محمد بن ابی بکر مقدمی نے ہم سے بیان کیا کہ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ فَضيل بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابوحازم عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدِ سے، ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله حضرت سہل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَدْخُلَنَّ مِنْ أُمَّتِى آپ نے فرمایا: میری امت میں سے ستر ہزار یا سات سو ہزار ( یعنی سات لاکھ ) جنت میں داخل ہوں گے۔سَبْعُوْنَ أَلْفًا أَوْ سَبْعُ مِائَةِ أَلْفِ لَا يَدْخُلُ جب تک ان میں سے پچھلے داخل نہ ہو لیں گے پہلے أَوَّلُهُمْ حَتَّى يَدْخُلَ آخِرُهُمْ وُجُوهُهُمْ داخل نہ ہوں گے۔ان کے چہرے چودھویں رات عَلَى صُوْرَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ۔کے چاند کی طرح ہوں گے۔اطرافه: ٦٥٤٣، ٦٥٥٤۔٣٢٤٨ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۳۲۴۸ عبد اللہ بن محمد جعفی نے ہمیں بتایا کہ یونس الْجُعْفِيُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ بن محمد نے ہم سے بیان کیا۔شیبان نے ہمیں بتایا۔حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسٌ انہوں نے قادہ سے روایت کی کہ حضرت انس رطل منه