صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 71
صحيح البخاری جلد 4 اے ۵۹ - كتاب بدء الخلق یہ ایک قسم ہے کہ بالکل بیداری میں واقع ہوتی ہے۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۵۰،۱۴۹) روایت نمبر ۳۲۳۹ کے آخر میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ یہ ہے: وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَبَ فَلَا تَكُنُ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَائِهِ۔(السجدة :۲۴) روایت نمبر ۳۲۳۹ قتادہ سے مروی ہے اور اس میں ان کی طرف سے قدرے اضافہ ہے۔لِقَائِہ کی ضمیر (ہ) سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات مراد لی گئی ہے ، جو بظاہر سیاق کلام کے خلاف ہے۔در حقیقت اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کتاب شریعت کا دیا جانا مراد ہے اور یہ کہ آپ کی امت کے لئے ایک سلسلہ خلافت اسی طرح جاری کرنے کی بشارت دی گئی ہے۔جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں جاری ہوا تھا۔ان کی یہ روایت دو راویوں سے مروی ہے شعبہ اور سعید بن ابی عروبہ سے۔لیکن سیاق روایت سعید کے الفاظ میں ہے۔(فتح الباری جزء 4 صفحہ ۳۸۱) وَقَالَ أَنَسٌ وَأَبُو بَكْرَةَ عَنِ النَّبي الا الله : حضرت انسؓ اور حضرت ابو بکرہ کی روایات موصول ہیں۔دیکھئے کتاب فضائل المدينة باب ۹ روایات نمبر ۱۸۸۱،۱۸۷۹۔اسی طرح کتاب الفتن باب ۲۶، ۲۷ میں بھی آئیں گی۔(دیکھئے روایات نمبر ۷۱۲۴، ۷۱۲۶،۷۱۲۵ ۷۱۳۴۰ ) بَاب : مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ وَأَنَّهَا مَخْلُوْقَةٌ جنت کے بیان میں جو روایتیں آئی ہیں اور یہ کہ وہ مخلوق ہے قَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ مُّطَهَّرَةٌ (البقرة: ٢٦) ابو العالیہ نے کہا: أَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ کے معنی ہیں کہ مِنَ الْحَيْضِ وَالْبَوْلِ وَالْبَصَاقِ۔كُلَّمَا جنت میں ملنے والی بیویاں حیض، پیشاب اور تھوک رُزِقُوا (البقرة : ٢٦) أَتُوْا بِشَيْءٍ ثُمَّ سب گندگیوں سے پاک وصاف ہوں گی۔كُلَّما أُتُوا بِآخَرَ قَالُوْا هُذَا الَّذِي رُزِقْنَا رُزِقُوا کے معانی ہیں انہیں کوئی چیز دی گئی پھر کوئی اور چیز جنت میں سے ) دی جائے گی تو وہ کہیں گے یہ تو مِنْ قَبْلُ (البقرة: ٢٦) أَوْتِيْنَا مِنْ قَبْلُ۔ہمیں پہلے بھی دیا گیا تھا۔حالانکہ وہ اس کے ہم شکل وَأتُوا بِهِ مُتَشَابِهَا (البقرة: ٢٦) يُشْبِهُ دیے جائیں گے۔ایک دوسرے سے شکل میں ملتے بَعْضُهُ بَعْضًا وَيَخْتَلِفُ فِي الطَّعْمِ۔جلتے ہوں گے اور مزے میں مختلف ہوں گے۔قُطُوفُهَا قُطُوْفُهَا (الحاقة: ٢٤) يَقْطِفُونَ كَيْفَ دَانِيَةٌ کے یعنی ہیں کہ پھل اتنے قریب ہوں گے کہ لا ترجمه از تفسیر صغیر اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی۔پس تو بھی ایک مکمل کتاب کے ملنے کے متعلق شبہ نہ کر۔(مسلم، كتاب الإيمان، باب الإسراء برسول الله الا الله إلى السماوات) (عمدۃ القاری جزء ۱۵ صفحه ۱۴۶)