صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 70
صحيح البخاری جلد ۶ ۵۹- كتاب بدء الخلق دوسرے کا ذکر لازم نہیں آتا۔قرآن مجید میں جہاں زوجین کے تعلقات کی حدود کا ذکر ہے وہاں یہ بھی صراحت ہے کہ حدود کا خیال نہ رکھنے والے (مرد وعورت دونوں ) ظالم ہیں۔- روایت نمبر ۳۲۳۸ کے لئے دیکھئے کتاب بدء الوحي روایت نمبر ۴ جو الگ سند سے مروی ہے اور جس میں اسی روایت کے ہم معنی مضمون ہے۔الفاظ کا فرق قابل التفات نہیں۔ابوسلمہ راوی نے رُجز کے معنی اوثان بتائے ہیں۔روایت نمبر ۳۲۳۹ میں معراج والی رات کا ذکر ہے جس میں انبیاء علیہم السلام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہوئی۔آپ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو بھی فوت شدہ انبیاء ہی میں دیکھا اور ان کا حلیہ بیان فرمایا۔اس روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد روحانی مشاہدات یکجا بیان کئے گئے ہیں جو مختلف اوقات میں ہوئے اور مختلف راویوں سے مروی ہیں۔امام بخاری کا اس تصرف سے آنحضرت ﷺ کی رویت مَا ذَا الْبَصَرُ وَمَا طَغَى لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَتِ رَبِّهِ الكُبُری ) (النجم: ۱۹،۱۸) کی نوعیت دکھلانا مقصود ہے کہ وہ نزدیک و دور کے واقعات و حادثات پر حاوی ہے۔انہی واقعات کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَلَقَدْ رَاهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ ، وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينِ (التكوير: ۲۵،۲۴) اور اس نے اس (غیب) کو یقیناً کھلے افق میں دیکھا ہے اور وہ غیب کی خبر میں بتانے میں ہرگز بخیل نہیں۔یہ ظاہر ہے کہ بلند مقام پر کھڑے ہو کر دیکھنے والے کو دور و نزدیک کی چیزیں صاف نظر آتی ہیں اور جس بلند ترین مقام پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مشاہدہ کرایا گیا ہے وہی افق مبین والی رؤیت ہے اور سورۃ النجم میں آپ کی رؤیت افق اعلی والی بتائی گئی ہے۔یعنی نہایت ہی بلند شان اور اس کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہمارے ہادی و مقتدا صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اقتداری خوارق نہ صرف آپ ہی دکھلائے بلکہ ان خوارق کا ایک لمبا سلسلہ روز قیامت تک اپنی اُمت میں چھوڑ دیا جو ہمیشہ اور ہر زمانہ میں حسب ضرورتِ زمانہ ظہور میں آتا رہا ہے اور اس دنیا کے آخری دنوں تک اسی طرح ظاہر ہوتا رہے گا۔۔۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۷) چونکہ سابقہ روایات میں سورۃ النجم کے پہلے رکوع کی آیات کا حوالہ دیا گیا ہے۔اس لئے اس تعلق میں چند مشاہدات بطور نمونہ اکٹھے بیان کئے گئے ہیں۔ان میں سے ہر مشاہدہ کی تفصیل الگ الگ روایات میں مذکور ہے۔داروغہ جہنم کے لیے دیکھئے روایت نمبر ۳۲۳۶۔ملاقات حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام کے لیے دیکھئے کتاب الأنبياء روایت نمبر ۳۳۹۴، دجال کا دیکھنا اور مدینہ کی حفاظت کے تعلق میں دیکھئے کتاب الفتن باب ۲۶، ۲۷۔آنحضرت ﷺ کے مکاشفات کا ذکر اس سے پہلے بھی متعدد روایات میں گزر چکا ہے۔مثلاً انبیاء علیہم السلام کی ملاقات سے متعلق دیکھئے کتاب الصلاة روایت نمبر ۳۴۹۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام مکاشفات کے تعلق میں فرماتے ہیں: ” کشف کی اعلیٰ قسموں میں سے