صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 69 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 69

صحيح البخاری جلد ٦ ۶۹ ۵۹ - كتاب بدء الخلق اس شعر میں اللہ کے معنی اللہ کے لئے نہیں بلکہ یہ لفظ انتہائی تعجب و حیرت وغیرہ کے معنوں میں وارد ہوا ہے۔-۳- اسی طرح حسان بن ثابت کا زمانہ جاہلیت کا ایک شعر ہے: لِلهِ دَرُّ عِصَابَةٍ نَادَمْتُهُمُ يَوْمًا بِجِلَّقَ فِي الزَّمَانِ الْأَوَّلِ (دیوان حسان بن ثابت ،قافية اللام ، صفحه ۱۶۵) ( تاریخ دمشق، حرف الحاء، حسان بن ثابت ، جزء ۱۲ صفحه ۴۲۶) یعنی کیا ہی عجیب وہ جماعت تھی جن کے ساتھ میں نے کبھی پہلے زمانہ میں جلق کے مقام پر مصاحبت کی شاعر کا اشارہ غسانی عیسائی بادشاہ کی طرف ہے جس کے ہاں وہ بطور مہمان ٹھہرا تھا اور اس کی عزت افزائی ہوئی۔غرض سورۃ النجم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان عظمت مآب بطور شفیع کامل بیان کی گئی ہے۔جیسا کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے محولہ بالا آیت کا مفہوم شرح وبسط سے اپنی متعدد کتابوں میں بیان فرمایا ہے۔دیکھئے علاوہ مذکورہ حوالے کے آپ کی کتاب آئینہ کمالات اسلام۔وَنَادَوْا يَا مَالِ : روایت ۳۲۳۰ میں محولہ بالا آیت پوری یہ ہے : وَنَادَوُا يَمْلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ قَالَ إِنَّكُمْ مَّكِتُونَ۔لَقَدْ جِتْنَكُم بِالْحَقِّ وَلَكِنَّ أَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كَرِهُونَ ) (الزخرف: ۷۹،۷۸) اوروه پکاریں گے کہ اے مالک ( یعنی افسر دوزخ) تیرے رب کو چاہیے کہ ہمیں موت دے دے۔وہ کہے گا: تم دیر تک اس میں رہو گے۔(خدا تعالیٰ کہتا ہے : ) ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے لیکن تم میں سے اکثر حق سے نفرت کرتے تھے۔کسی کلمہ کے آخری حروف میں سے کوئی حرف گرانے کو قواعد عربیہ کی اصطلاح میں ترخیم کہتے ہیں۔رحم کے معنی ہیں ہلکا کیا۔مختلف حالات نفسیہ میں انسان کبھی بالطبع لفظ کے پورے حروف نہیں بول سکتا۔مثلا شدت خوف میں چور کو چو کہ کر مدد کے لئے پکارتا ہے۔اسی طرح بعض وقت فرط سرور میں بھی یہی ہوتا ہے اور بالعموم محبت اور پیار کے لب ولہجہ میں بھی پورا نام نہیں لیا جاتا۔اس قسم کا حذف عربی میں ترخیم کہلاتا ہے۔یا مَالِكُ کو يَا مَالِ پکارنے کی بھی یہی صورت ہے۔یا مالک سے مراد ملائکہ جہنم ہیں۔کائنات عالم کی ہر شئے ملکی تصرفات میں ہے جیسا کہ آئینہ کمالات اسلام میں یہ حقیقت بڑی تفصیل اور پوری وضاحت سے مدلل بیان کی گئی ہے۔لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ : روایت نمبر ۳۲۳۷ میں ملائکہ کی لعنت کا جو ذکر وارد ہے وہ برکت سے محرومی کے مفہوم میں ہے نہ کہ ہماری طرح کی لعن طعن، جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے۔تسکین شہوت تھکے ماندے مرد کی طبعی ضرورت ہے۔اگر بیوی یہ ضرورت پوری نہیں کرتی تو اپنے خاوند کو ایسی حالت اضطراب میں ڈالتی ہے جس سے بعض وقت ضرورت مند کی نیند اُچاٹ ہو جاتی ہے اور طرح طرح کے خیالات بے راہ روی پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ایسی حالت میں وہ گویا محرک بدی اور ازدواجی تعلقات کی استواری کو بگاڑنے والی ہے۔اس لئے وہ ملعون یعنی ملکی برکات سے محروم ہے۔اس روایت میں صرف بیوی کے ذکر سے یہ نہ سمجھا جائے کہ وہی اعراض کی وجہ سے ملعون ہے بلکہ مرد میں بھی اگر اعراض کی صورت ہو یا وہ ہی حدود اعتدال سے متجاوز ہو تو وہ بھی ویسا ہی ملعون ہے جیسے بیوی۔ایک کے عدم ذکر۔ނ