صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 68
صحيح البخاری جلد Ча ۵۹ - كتاب بدء الخلق جَنَاحَكَ۔وَقَالَ الْعُلَمَاءُ فِي أَجْنِحَةِ الْمَلَائِكَةِ إِنَّهَا صِفَاتٌ مَّلَكِيَّةٌ لا تُفْهَمُ إِلَّا بِالْمُعَايَنَةِ - ( فتح الباري شرح كتاب المغازي، بابا غزوة موتة، جزء صفحہ ۶۴۵) لفظ جناحین ظاہری معنی میں نہیں۔۔۔اس سے مراد ملکی صفت اور روحانی قوت ہے جو حضرت جعفر کو عطا کی گئی۔اور قرآن کریم نے بازو کو جناح سے تعبیر کیا ہے، وسعت دیتے ہوئے۔( قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا قول ہے: اپنے بازو کو اپنے ساتھ چمٹا لے۔علماء کا قول ہے کہ پروں سے مراد ملکی صفات ہیں جو بغیر مشاہدہ نہیں سمجھی جاسکتیں۔فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْن أو أدنى۔۔۔روایت نمبر ۳۲۳۲ میں سورۃ النجم ہی کی آیت کا حوالہ دیا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام لکھتے ہیں: ”ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے دس لاکھ کے قریب قول و فعل میں سراسر خدائی کا ہی جلوہ نظر آتا ہے اور ہر بات میں، حرکات میں سکنات میں، اقوال میں ، افعال میں روح القدس کے چمکتے ہوئے انوار نظر آتے ہیں۔“ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۱۶) روایت نمبر ۳۲۳۲ میں جو سورۃ النجم کی آیت دَنی فَتَدَلَّى ، فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى O کا حوالہ دیا گیا ہے وہ غائت درجہ وصال اور اتحاد فی المقصد پر دلالت کرتا ہے۔فقرہ مَا أَوحی میں اس وحی کے تعجب انگیز کمال کا مفہوم پایا جاتا ہے۔سورۃ النجم کے اس رکوع میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی نوع انسان کے لئے شفیع قرار دیئے گئے ہیں جو کامل اور ابدی واسطۂ اتصال ہیں ان کے اور معبود حقیقی کے درمیان۔ان آیات کا سیاق کلام کامل ارتقاء اور معراج منتہی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوا۔چنانچہ یہ آیات جملہ فَلِلَّهِ الْآخِرَةُ وَالا ولی پر ختم کی گئی ہیں۔جس کے معنی ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اول و آخر، آغاز و انجام ، دنیا و آخرت اور آپ کی شان عظمت مآب خارق عادت اور حیرت انگیز ہے۔اللہ کا ان معنوں میں یہ استعمال عرب کے قدیم لٹریچر ( ادبیات ) میں بکثرت ہے اور اب تک اسی مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔طوالت کے خوف سے دو تین مثالوں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔1- علی بن کا تب کا مشہور شعر ہے: الَا لِلَّهِ طَيْفٌ مِنْكَ يَسْقِي بكَأْسَاتِ الْكَرَى زُوْرًا وَمَيْنًا وفيات الأعيان وأنباء أهل الزمان، حرف العين صر در الشاعر، جزء٣ صفحه ٣٨٥) تیرے خیال کا کیا کہنا جو جھوٹ و فریب سے نیند کے جام پلا رہا ہے۔-۲- ایک عراقی مشہور شاعر ایک خوبرو دوشیزہ سے متعلق جسے وہ دجلہ کے کنارے پر سیر کرتے دیکھ پایا ہے، کہتا ہے: تَهَادَتْ تُرِينِي الْبَدْرَ مُحْدِقَةٌ بِهَا أَوَائِسُ إِحْدَاقَ الْكَوَاكِبِ بِالْبَدْرِ فَلِلَّهِ مَا قَدْ هِجْنَ لِي مِنْ صَبَابَةٍ أَلْقَتْ بِهَا طَيَّ الضُّلُوعَ عَلَى الْجُمُرِ چاند سا مکھڑا دکھاتی ہوئی وہ خراماں خراماں جا رہی تھی۔وہ ہم دو شیزاؤں کے حلقہ میں ایسی تھی جیسے چاند تاروں کے حلقہ میں۔جذبات محبت دعشق ان دو شیزاؤں نے کیسے بھڑکائے گویا میرے پہلوؤں کو انگاروں پر ڈال دیا۔