صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 67 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 67

صحيح البخاری جلد ٦ ۶۷ ۵۹- كتاب بدء الخلق قَرُنُ التَّعَالِب کا دوسرا نام قَرُنُ الْمَنَازِل ہے جو اہل نجد کی میقات حج ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه۳۸۰) واقعه مذکوره روایت نمبر ۳۲۳۱ از قبیل مکاشفہ اور تمثلات روحانیہ ہے۔روایات نمبر ۳۲۳۳٬۳۲۳۲، ۳۲۳۵ میں محولہ آیات سورۃ النجم کی ہیں۔فرماتا ہے: عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوى o ذُومِرَّةٍ فَاسْتَوَى هِ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى هِ ثُمَّ دَنَى فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى۔۔۔۔لَقَدْ رَاى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبرى (النجم: ۶ تا ۱۹) اس کو ( یہ کلام) بڑی قوتوں والے (خدا) نے سکھایا ہے۔جس کی قوتیں بار بار ظاہر ہونے والی ہیں اور جو اس وقت اپنی طاقتوں کے اظہار کے لئے اپنے عرش پر مضبوطی سے قائم ہے اور ہر بالغ نظر کو آسمان کے کناروں پر اس کے ظہور کی علامتیں نظر آرہی ہیں اور وہ ( یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) بندوں کے اس اضطراب کو دیکھ کر ان پر رحم کر کے خدا سے ملنے کے لئے اس کے قریب ہوئے اور وہ ( خدا ) بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کے شوق میں اوپر سے نیچے آ گیا۔اس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی بڑی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی دیکھی۔شَدِيدُ الْقُوى : شَدِيدُ القوى معلم سے مراد جبریل ہیں۔ان کے چھ سو پر سے وہ استعدادیں مراد ہیں جن کے ذریعہ تکمیل ارتقائے بشری اور روح القدس کا کامل ظہور ہوتا ہے۔ہر استعداد کے مقابل ایک شرعی حکم ہے جس کی تعمیل روحانی ارتقاء و معراج کے لئے ضروری ہے۔مزید وضاحت کے لئے دیکھئے آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۱۹۶ تا ۱۹۸۔نیز آیات محولہ بالا کی تشریح کے لئے دیکھئے یہی کتاب صفحہ ۱۰۲ تا ۱۰۸۔اور تفسیر صغیر سورۃ النجم حاشیہ آیات مذکورہ فرماتا ہے : مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَعَی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤیت صحیح تھی اور نقائص بینائی سے میرا۔نظر کی عام بیماریاں یہ ہیں : 1 - Hypermetropia کوتاہ نظری (نزدیک کی نظر میں کمی ) Myopia (دور کی نظر میں کمی) - Strabismus (بھینگا پن ) Colorblindness ( رنگت کا اندھا پن ) - - Cataract (موتیا بند ) مَا زَاعَ الْبَصَرُ کی آیت سے آنحضرت ﷺ کی بینائی سے ہر قسم کے نقص کی نفی کی گئی ہے۔روایت نمبر ۳۲۳۸ سے جبریل کا آفاق آسمان کو اپنے پروں سے ڈھانپنے کا مفہوم کامل تجلی صفات باری تعالی ہے جو آنحضرت ﷺ پر ہوئی۔جس سے شریعت حقانیہ پایہ کمیل کو پہنچی۔اس تمثیل سے سلف صالحین کو بھی اتفاق ہے تفصیل کے لئے دیکھئے آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۱۷ تا ۱۲۸۔ملائکہ اللہ کے پروں سے مراد صفات ملکیہ اور قوائے روحانیہ ہیں۔حضرت جعفر جنگ موتہ میں شہید ہوئے۔آنحضرت ﷺ نے آپ کے متعلق یا ابْنَ ذِی الْجَنَاحَيْنِ کے الفاظ استعمال فرمائے۔مفسرین اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: لَيْسَا عَلَى ظَاهِرِهِمَا۔۔۔فَالْمُرَادُ بِالْجَنَاحِيَّةِ صِفَةٌ مَلَكِيَّةٌ وَقُوَّةٌ رُوْحَانِيَّةٌ أُعْطِيَهَا جَعْفَرٌ۔وَقَدْ عَبْرَ الْقُرْآنُ عَنِ الْعَصْدِ بِالْجَنَاحَ تَوَسُّعًا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى وَاضْهُمْ إِلَيْكَ