صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 66 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 66

صحيح البخاری جلد ٦ ۶۶ ۵۹ - كتاب بدء الخلق والے باب کا روایات نمبر ۳۲۲۴، ۳۲۲۶،۳۲۲۵، ۳۲۲۷ کے نفس مضمون سے بظاہر کوئی تعلق نہیں۔عنوانِ باب کا تعلق صرف روایت نمبر ۳۲۲۸ سے ہے۔جس کا مضمون وہی ہے جو عنوانِ باب کا بیان ہے۔تصویر یا کتے کی کسی گھر میں مطلق موجودگی سے ملائکتہ اللہ کا سوال نہیں۔ان کے کسی گھر میں داخل ہونے سے مراد اس گھر میں ملکوتی برکات کے نزول اور نہ داخل ہونے سے ان برکات سے اس کی محرومی ہے جو حدیث کا موضوع ہے۔جیسا کہ کتاب الاذان تشریح باب 11 میں بتایا جا چکا ہے۔اس لئے امام بخاری نے عنوانِ بالا اس روایت کے اصلی مضمون سے شروع کر کے اسے روایت نمبر ۳۲۲۹ پرختم کیا ہے اور مختلف روایات نقل کر کے انہیں ایک ہی عنوان کے تحت اکٹھا کر کے قارئین کے فہم پر چھوڑا ہے کہ وہ خود عقل سے کام لیں کہ کونسی مورتیاں یا تصویریں اور کتے مفسد عقائد و اخلاق اور صحت جسمانی یا روحانی کے لئے مضر ہیں۔آج کل بھی مورتی پوجا موجود ہے اور کہتے رکھنے والے شوقین ایسے طریق اختیار کرتے ہیں جو نہ صرف اقتصادی لحاظ سے نقصان دہ بلکہ حیا سوز اور مخرب اخلاق بھی ہیں۔ایسے لوگ اور ان کے گھر ملکی برکات سے یقینا محروم ہیں۔آیا امام بخاری کا اس باب سے یہی امر ذہن نشین کرانا مقصود ہے۔اول خود عنوانِ باب کے الفاظ سے واضح ہے اور روایت نمبر ۳۲۲۶ سے خود راوی حدیث حضرت زید بن خالد جمنی کے عمل سے جواز کی صورت ثابت ہوتی ہے۔حضرت زید بن خالد جھینی بیمار ہوئے اور ان کی عیادت کو بسر بن سعید مع عبید اللہ خولانی گئے۔فَإِذَا نَحْنُ فِي بَيْتِهِ بِسِتْرِ فِيهِ تصاویر کیا دیکھتے ہیں کہ پردہ لٹکا ہے جس میں تصویریں ہیں۔انہیں تعجب ہوا۔لیکن انہوں نے إِلَّا رَقُمْ فِي ثَوْبِ کہ کر استثناء کا ذکر کیا جس سے ان کا تعجب دور ہوا۔احادیث کی صحت الفاظ سے متعلق امام بخاری کی وسعت نظر و اہتمام کی مثال کیلئے دیکھئے کتاب الکسوف باب۔علامہ حافظ احمد بن حجر عسقلانی مؤرخ فقیہ مصری شافعی (۱۳۷۲-۱۴۴۹ء) نے اور علامہ عبدالرحمن ابن خلدون المغربی (۱۳۳۲ تا ۱۴۰۶ء) نے اپنے مقدمہ ابن خلدون میں امام موصوف کی وسعت نظر اور تعمیق فکر سے متعلق جو قابل قدر رائے کا اظہار کیا ہے وہ مذکورہ بالا شرح سے واضح ہو جاتی ہے۔كَانَ أَشَدَّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ : واقعہ مندرجہ روایت نمبر ۳۲۳۱ بقول ابن سعد ہجرت سے پہلے شوال دسویں سال کا ہے۔جب ابوطالب فوت ہوئے قریش مکہ آنحضرت ﷺ کی ایذا دہی میں دلیر ہوگئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سرداران بنی ثقیف کو تبلیغ اور ان کے ہاں پناہ لینے کی غرض سے طائف کا قصد کیا۔ان میں سے ایک دوسرا شخص مسعود بن عبدیالیل تھا۔یہ اپنے خاندان میں ذی اثر تھا۔اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نہ صرف انکار کیا بلکہ آپ کے ساتھ نہایت برا سلوک کیا۔آپ طائف سے نکلوا دیئے گئے اور آپ کے پیچھے شہر کے لونڈے چھوڑ دیئے جنہوں نے آپ کو بخش گالیاں دیں اور آپ پر پتھر برسائے جس سے آپ لہولہان ہو گئے اور غش کھا کر زمین پر گر پڑے۔آپ کے ساتھی حضرت زید بن حارثہؓ بھی زخمی ہوئے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۳۷۹) الطبقات الكبرى لابن سعد، ذكر سبب خروج رسول الله الله إلى الطائف)