صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 65 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 65

صحيح البخاری - جلد 1 ۶۵ ۵۹- كتاب بدء الخلق لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ ۔۔۔۔۔۔ روایات نمبر ۳۲۲۵،۳۲۲۴، ۳۲۲۶ میں ملائکہ اللہ کے ایسے گھر میں داخل نہ ہونے کا ذکر ہے جس میں کتا یا مورتیں ہوں ۔ اِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ - مورتی پوجا عربوں میں اسی طرح گھر گھر رائج تھی جس طرح چین و جاپان، سیام اور ہندوستان میں اب تک ہے۔ ایسے گھروں سے جو مشرکانہ عقائد سے نجس ہوں ملائکہ اللہ کا کیا واسطہ۔ ان میں تو شیاطین و طواغیت براجمان ہوتے ہیں۔ پس یہ سے ہے جو میم سے تعلیم روایات محدود معنوں میں ہیں۔ کیونکہ قرآن مجید میں نص صریح ہے کہ کتا ان شکاری جانوروں میں سدھائے جاسکتے ہیں۔ (دیکھئے سورۃ المائدہ آیت (۵) حدیث میں آتا ہے اس کا مارا ہوا شکار حلال ذبیحہ ہے، اگر شکار کرتے وقت بسم اللہ پڑھ لی جائے ہے اور یہ جانور حفاظت و وفاداری میں مشہور ہے۔ ناداری میں مشہور ہے ۔ بلکہ اتنا ذکی الحس اور منا مفید ہے کہ اس سے قاتلوں کی سراغ رسانی میں کام لیا جاتا ہے۔ پس کتے کی مذکورہ بالا نجاست اور ملائکۃ اللہ کی عدم موجودگی سے متعلق روایت کا مفہوم علی الاطلاق لینا نہ صرف نص صریح اور مند اور منشائے خالق کے خلاف ہے بلکہ اس ارشاد نبوی کے خلاف بھی ہے جس میں کتے سے کام لینے کی اجازت ہے۔ (کتاب الحرث والمزارعة، باب (۳) اس تعلق میں كتاب الصلاة باب ۱۴، ۱۵ نیز كتاب الأذان باب ۹۳ روایت نمبر ۷۵۲ بھی دیکھئے۔ امام بخاری مذکورہ بالا لطیف تصرف سے یہی سمجھانا چاہتے ہیں جو باب کے عنوان باندھنے اور روایات کی ترتیب میں اختیار کیا ہے۔ امام ابن حجر جیسے جلیل القدر شارح کو بھی سمجھنے میں مشکل پیش آئی ہے۔ اس تعلق میں یہ ذکر بے محل نہ ہو گا کہ حضرت امام محمد بن اسماعیل بخاری اکابر علماء کے نزدیک بہت ہی بلند پایہ محقق تسلیم کئے گئے ہیں۔ ان کی کتاب صحیح بخاری اصح الکتب مانی گئی ہے۔ امام موصوف تدقیق تحقیق اور وسعت نظر اور تعمق معانی میں یکتائے روزگار ہیں۔ علامہ ابن خلدون جو علامہ حافظ محمد بن حجر عسقلانی شارح بخاری کی پیدائش سے قریب زمانہ کے ہیں۔ ان کا قول ہے کہ چونکہ ان کی کتاب کا درجہ و مرتبہ بہت بلند ہے۔ اس لئے اس کی شرح کما حقہ نہ ہو سکی اور کوئی اس کی گہرائیوں تک رسائی حاصل نہیں کر سکا اور ہم نے اپنے اساتذہ سے بار ہا سنا ہے کہ صیح بخاری کی شرح کا بہ بار منت امت کے کندھوں پر ہے ہے اور ایک واجب الادا قرض جو اب تک ان کے ذمے سے ساقط نہیں ہوا ہے اس لئے عنوان باب اور ترتیب روایات سرسری نظر سے نہ دیکھی جائیں۔ ان کی وسعت نظر و نقد کے لئے دیکھئے کتاب الكسوف باب ۶ ۔ اور تدقیق و عمق کے لئے باب کے کا یہی عنوان مع تشریح ۔ روایات مندرجہ سے کتے اور مورتوں یا تصویروں کی موجودگی سے متعلق بظاہر ایک فتویٰ اخذ کر کے عنوان باب میں نمایاں کیا جا سکتا تھا۔ مگر ایسا فتوی نظر انداز کیا گیا ہے کیونکہ اس کا تعلق مختلف حالات سے ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے۔ روایات نمبر ۳۳۲۴، ۳۳۲۵ زیر باب ۷ امیں کار آمد کتے مستثنیٰ کئے گئے ہیں ۔ امام ابن حجر لکھتے ہیں کہ صحیح بخاری کے اکثر نسخوں میں باب کا عنوان ملائکہ اللہ کی آمین سے قائم کر کے ایسی روایات بیان کی گئی ہیں جن کا عنوانِ باب سے بظاہر کوئی تعلق نہیں۔ (فَاشْكَلَ اَمْرُهُ جِدًّا) جس سے بڑی مشکل پیش آئی ہے۔ ظاہر ہے کہ ملائکہ اللہ کی آمین سے موافقت (بخاری، کتاب الذبائح والصيد، باب التسمية على الصيد) (مقدمة ابن خلدون ، الباب السادس في العلوم، الفصل السادس علوم الحديث)