صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 56
صحيح البخاری جلد ٦ ۵۶ ۵۹ - كتاب بدء الخلق ٣٢٢٥: حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلِ أَخْبَرَنَا :۳۲۲۵ ( محمد ) بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِي عبداللہ نے ہمیں بتایا کہ معمر نے ہمیں خبر دی۔انہوں عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْن عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ نے زہری سے، زہری نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔وہ کہتے تھے: میں نے ابوطلحہ سے سنا۔وہ سَمِعْتُ أَبَا طَلْحَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سنا۔آپ فرماتے تھے: ملائکہ اس گھر میں داخل يَقُوْلُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيْهِ نہیں ہوتے جس میں کہتا ہو اور نہ اس میں جس میں كَلْبٌ وَلَا صُوْرَةُ تَمَاثِيْلَ۔مورتیں یعنی بت ہوں۔اطرافه: ۳۲۲۶، ۳۳۲۲، ٤٠٠۲ ٥٩٤٩، ٥٩٥٨۔٣٢٢٦: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا ابْنُ :۳۲۲۶ احمد بن صالح) نے ہم سے بیان کیا کہ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ (عبد الله بن وہب نے ہمیں بتایا۔عمرو بن حارث) الْأَشَجّ حَدَّثَهُ أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ نے ہمیں خبر دی کہ بکیر بن اشیخ نے بیان کیا کہ بسر بن حَدَّثَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ سعید نے انہیں بتایا کہ حضرت زید بن خالد جہنی رند نے انہیں بتایا اور بسر بن سعید کے ساتھ عبید اللہ سَعِيدٍ عُبَيْدُ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ الَّذِي كَانَ ( بن اسود ) خولانی بھی تھے۔انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی گود میں رَضِيَ فِي اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ وَمَعَ بُسْرِ بْنِ حَجْرٍ مَيْمُوْنَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا پرورش پائی تھی۔ان دونوں کو حضرت زید بن خالد زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمَا زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ نے بتایا کہ ابوطلحہ نے ان سے بیان کیا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ملائکہ اس گھر میں داخل نہیں حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہوتے جس میں مورت ہو۔بُسر کہتے تھے: زید بن قَالَ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيْهِ خالد بیمار ہوئے۔ہم ان کی عیادت کو گئے تو ہم کیا صُوْرَةٌ۔قَالَ بُسْرٌ فَمَرِضَ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ دیکھتے ہیں کہ ان کے گھر میں ایسا پردہ ہے جس میں فَعُدْنَاهُ فَإِذَا نَحْنُ فِي بَيْتِهِ بِسِتْرِ فِيهِ تصویریں ہیں۔میں نے عبید اللہ خولانی سے کہا: