صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 54
صحيح البخاری جلد ۲ ولد ۵۹ - كتاب بدء الخلق جلد ۵ حاشیہ صفحہ ۱۴۰ تا ۱۶۰۔ جہاں اس آیت کی مفصل شرح بیان کی گئی ہے۔ اسی تعلق میں روایت نمبر ۳۲۱۳،۳۲۱۲ بھی ہیں جن میں حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی مدافعت کا ذکر ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا کہ اے اللہ ان کی روح القدس سے تائید فرما۔ روایت نمبر ۳۲۱۱ سے ظاہر ہے کہ ملائکہ نہ صرف ملاء اعلیٰ سے نازل شدہ کلام کی تنزیل و حفاظت کے لئے مامور ہیں۔ بلکہ وہ انسان کے نیک اعمال کو بھی محفوظ رکھتے ہیں۔ روایت نمبر ۳۲۱۵ میں کیفیت نزول وحی کا ذکر ہے۔ اس کے لئے دیکھئے کتاب بدء الوحی روایت نمبر ۲ ، ۳۔ وحی کی صورت و شکل متعدد اور اس کی کیفیت نزول اور ملائکہ کا تمثل ہر صاحب وحی و الہام کے لئے مختلف ہے۔ مذکورہ بالا کیفیت وہ ہے جو ابتداء میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے کے وقت تھی۔ بعد میں وحی واضح کلام کی صورت میں نازل ہوتی رہی ۔ امام بخاری نے كَيْفَ كَانَ بَدْءُ الْوَحْيِ کا عنوان قائم کر کے اسی امر کی طرف توجہ دلائی ہے۔ الْمَلا الأَعْلَی یعنی ملائکۃ اللہ کی جماعت جو بلندشان ہے۔ اس بارے میں دیکھئے سورۃ الصافات آیت ۹۔ اور روایت نمبر ۳۲۱۶ کے لئے دیکھئے کتاب الصوم باب ۴ روایت نمبر ۱۸۹۷، کتاب الجہاد باب ۳۷ روایت نمبر ۲۸۴۱ روایت نمبر ۳۲۱۷ میں ملکی تمثلات سے متعلق ایک واقعہ مروی ہے جو حقیقت پر مبنی ہے اور جس کے گواہ ہزاروں اور لاکھوں ہیں اور ہمیں اس کی حقانیت پر عین الیقین بلکہ حق الیقین ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی یہی یقین کامل تھا۔ انکار صرف اپنی رؤیت کا ہے۔ روایت نمبر ۳۲۱۸ ،۳۲۱۹ می ۳۲۱۶ میں اسی تمثل کا ذکر ہے۔ آ میں اسی کمی آيت وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرٍ رنگ کے شانِ نزول کے لئے دیکھئے کتاب التفسير، سورة مريم تشریح باب ۲۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا واقعہ مذکورہ بالا صحاح ستہ کی دوسری کتابوں میں بھی مذکور ہے۔ جس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے استدلال فرمایا ہے کہ روح القدس کی تائید و رفاقت مومنوں کو بھی حاصل ہوتی ہے۔ صرف حضرت عیسی علیہ السلام ہی کیلئے مخصوص نہ تھی۔ تفصیل کے لئے دیکھئے آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۰۴۔ سَبْعَة أَحْرُفٍ : سات حروف پر قرآت ( ہونے) سے مراد تلفظ اور لہجہ ہے نہ کہ تبدیلی الفاظ ۔ مثلاً حتی یہاں تک) قریش کا تلفظ ہے۔ قبیلہ ہذیل کے ہاں یہی لفظ عطی بولتے تھے۔ عین بجائے حاء کے۔ قریش دونوں طرح بول سکتے تھے۔ حَتَّی حین کا فقرہ عطی عین ( ایک وقت تک ) اس تعلق میں دیکھئے فتح الباری شرح کتاب فضائل القرآن باب ۵۔ مخالفین اسلام نے ناسمجھی سے اعتراض کیا ہے کہ موجودہ قرآن اصلی نہیں۔ حضرت عثمان نے حضرت زید بن ثابت کو حکم دیا تھا کہ ثقہ قاریوں کی مدد سے قریش کے لہجہ و تلفظ کے مطابق سارا قرآن مجید ضبط تحریر میں لایا جائے۔ روایت نمبر ۳۲۲۰ کے لئے کتاب الصوم باب نے بھی دیکھئے۔ روایت نمبر ۳۲۲۱ کے لئے کتاب مواقيت الصلاة بابا، روایت نمبر ۵۲۱ کی تشریح بھی دیکھئے۔ روایت نمبر ۳۲۲۲ کے لئے دیکھئے کتاب الإستقراض، شرح باب ۳۔ اور روایت نمبر ۳۲۲۳ کے لئے دیکھئے کتاب مواقيت الصلاة باب ۱۶، شرح روایت نمبر ۵۵۵