صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 53 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 53

صحيح البخاری جلد ۶ ۵۳ ۵۹ - كتاب بدء الخلق مشابہت اور مطابقت ہے اور ان کی ربوبیت ملائکۃ اللہ کے توسط سے انجام پذیر ہوتی ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ حاشیه در حاشیه صفحه ۱۷۴ تا ۲۱۱۔ روایت نمبر ۳۲۰۹ سے پایا جاتا ہے کہ جبرائیل ملائکۃ اللہ میں سے وہ واسطہ ہے جو بندے اور اس کے ربّ کے درمیان اور بندوں کے باہمی نیک روابط قائم کرنے کے لئے مامور ہے۔ شریعتیں اسی ایک غرض کے لئے نازل ہوتی رہیں اور ان کا نزول جبریل ہی کے توسط سے ہوا۔ روایت نمبر ۳۲۱۰ میں لفظ عنان کا ترجمہ تراجم بخاری میں بادل کیا گیا ہے۔ عِنان بادل کو بھی کہتے ہیں۔ مگر عِنانُ السَّمَاءِ کے معنی وسط اور بلندی ہیں جو نمایاں نظر آتی ہے۔ قاموس میں ہے عِنَانُ السَّمَاءِ: مَا بَدَا لَكَ مِنْهَا إِذَا نَظَرْتَهَا وَمَا عَلَا مِنْهَا وَارْتَفَعَ (القاموس المحيط - عنن) (اقرب الموارد - عنن) ۔ ایک مشہور مصری شاعر حسن کامل الصیر فی اپنی ایک نظم جس کا عنوان السَّحَابَةُ الْمُعْتَرَّة ( فریب خوردہ بدلی ) ہے، کہتے ہیں: مَرَّتُ بِطَوْدٍ شَامِحَ يَرْتَقِيُّ إِلَى عَنَانِ الْجَرِّ فِي بُعْدِهِ وہ بدلی ایک اونچے پہاڑ پر سے گزری جو فضائے آسمان کی بلندی میں دور تک سرفراز تھی کسی لفظ کا غلط ترجمہ خیال کو کہیں سے کہیں لے جاتا ہے۔ جب بادل گرجتا ہے تو لوگوں نے سمجھا کہ یہ گڑ گڑا ہٹ فرشتوں کے گرز مارنے کی وجہ سے ہے اور پھر عجیب و غریب قصے بنائے گئے ۔ جو اسرائیلیات میں سے ہیں اور یہود مدینہ نے عمداً بنائے تا مسلمانوں کو مذاق بنائیں۔ ان اس روایت (نمبر ۳۲۱۰) میں شیطانوں کے وحی الہی سے چرانے اور کاہنوں کو اس وجی سے آگاہ کرنے کا ذکر بھی ہے۔ اس چوری کا ذکر سورۃ الصافات میں بایں الفاظ وارد ہوا ہے اور اسی کے مطابق اس حدیث کے الفاظ کا مفہوم لیا جائے گا۔ فرماتا ہے : وَحِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَيْطَنٍ مَّارِدٍ لَا يَسَّمَّعُونَ إِلَى الْمَلَا الْأَعْلَى وَيُقْذَفُونَ مِنْ كُلِّ جَانِبِ ۔ دُحُورًا وَلَهُمْ عَذَابٌ وَّاحِبٌ ) إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ (الصافات: ۸ تا ۱۱) آیات سے قبل انبیا علیہم السلام دنیائے آسانی کی زینت قرار دیئے گئے ہیں جو ستاروں کی مانند روشن ہیں۔ فرماتا ہے: اِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةِ الْكَوَاكِبِ ) (الصافات (۷) ہم نے قریب ترین سماء الدنیا کو ستاروں کے ساتھ مزین کیا اور اسے ہر سرکش شیطان سے محفوظ رکھا ہے۔ یعنی انبیاء علیہم السلام کو جو ملاء اعلیٰ کے ذریعہ سے نور دیا جاتا ہے وہ محفوظ کر دیا جاتا ہے۔ شہاب ثاقب (یعنی مجددین ) کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور ان کے ذریعہ سے وساوس شیطانی کا قلع قمع ہوتا رہتا ہے۔ سارا سیاق کلام اسی مفہوم کی تائید کرتا ہے ۔ بَلْ عَجِبْتَ وَيَسْخَرُونَ ۔ وَإِذَا ذُكِّرُوا لَا يَذْكُرُونَ وَإِذَا رَأَوُا آيَةً يَسْتَسْخِرُونَ ) (الصافات: ۱۳ تا ۱۵) دیکھئے تفسیر صغیر ترجمہ و حاشیہ آیات، نیز آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : اور (یہ ) حفاظت کے طور پر ہے ہر دھتکارے ہوئے شیطان سے ۔ وہ ملاء اعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکیں گے اور ہر طرف سے پتھراؤ کیے جائیں گے۔ اس حال میں کہ دھتکارے ہوئے ہیں اور ان کیلئے چمٹ جانے والا عذاب (مقدر ) ہے، سوائے اُس کے جو کوئی ایک آدھ بات اچک لے تو اس کا بھی ایک روشن شعلہ تعاقب کرے گا ۔}