صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 52
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۲ ۵۹- كتاب بدء الخلق سے انسان میں پیدائشی طور پر اس کی فطرت کا جزو بن جاتے ہیں، ان کا تدارک و تلافی خالق اپنی وسیع مغفرت سے فرماتا ہے۔ یعنی بوقت محاسبہ انہیں نظر انداز کرتا ہے اور سلسلہ مجازات و مکافات سے متعلق تقدیر الہی یہ ہے : وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ - اللہ ہی کا اس میں سراسر اختیار ہے، آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی ۔ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُ وُا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَوُا بِالْحُسْنَى ) الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ (النجم: ۳۳۳۲) تا وہ بدکاروں کو ان کی بد عملی کی سزا دے اور نیکو کاروں کو ان کی نیکی کا بدلہ دے جو بڑے بڑے گناہوں اور کھلی بدکاریوں سے بچتے ہیں ۔ إِلَّا اللَّهَم مگر وہ کمزوریاں نظر انداز کی جاتی ہیں، جو پیدائش کا جزو ہیں اور جن میں انسان کا اختیار نہیں ۔ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ (النجم: (۳۳) کیونکہ تیرا رب وسیع مغفرت والا ہے۔ پاداش سے متعلق یہ واضح تقدیر (یعنی قانونِ الہی ) ہے جو قرآن مجید میں جگہ جگہ بیان ہوئی ہے اور جہاں بھی یہ قانون بیان ہوا ہے، وہاں یہ الفاظ ضرور ہیں: لِلهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۔ اللہ ہی کی ملکیت ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ جزا و سزا کا صرف وہی مالک ہے۔ سورہ فاتحہ میں اسی کامل اختیار پاداش کی وجہ سے رب العالمین کی چوتھی صفت مَالِكِ يَوْمِ الدِّینِ کا ذکر ہوا ہے۔ الدِّینِ کے معنی دینویت یعنی جزا وسزا اور مَالِكِ يَوْمِ الدِّینِ کے معنی ہیں جزا و سزا کا مالک۔ خالق سموات والارض نے پاداش اپنے ہاتھ میں رکھی ہے۔ هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنْشَاكُمْ مِّنَ الْأَرْضِ وَإِذْ انْتُمُ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهَتِكُمُ (النجم: (۳۳) مذکوره بالا تقدیر الہی کا بیان متعدد آیات میں بالتکرار وارد ہوا ہے۔ اس لئے حدیث نمبر ۳۲۰۸ میں وارد شدہ تقدیر کا ذکر اسی واضح بیان کے مفہوم میں لیا جائے گا۔ نہ اس مفہوم میں کہ سان نیکی و بدی میں کلیہ مجبور و بے اختیار ہے۔ اس مفہوم کی رو سے تو نہ بدکار کو سزا ملنی چاہیے، نہ نیکو کار کو جزا۔ کیونکہ وہ بدی یا نیکی کرنے پر بلا ارادہ واختیار ہے۔ سورۃ النجم کی آیت میں جن صیغہ ہائے فعل أَسَاوا، عَمِلُوا، أَحْسَنُوا، يَجْتَنِبُونَ سے بدو نیک اعمال انسان کی طرف منسوب کئے گئے ہیں۔ وہ آزادی ارادہ اور اختیار فعل یا ترک فعل پر دلالت کرتے ہیں۔ اس لئے جن امور کے اختیار یا ترک کرنے میں انسان آزاد ہے وہ قابل ثواب یا عقاب ہوگا۔ باقی رہا تکمیل خلق انسانی میں ملائکہ کا دخل تو کائنات عالم میں ایک ذرہ بھی نظام ملکی کے تصرف سے باہر نہیں۔ مذکورہ بالا حدیث میں انسانی پیدائش سے متعلق جن تغیرات کا ذکر الفاظ نطفہ، عَلَقَہ اور مُضْغَہ سے ہوا ہے۔ یہی الفاظ قرآن مجید کی آیت وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلْلَةٍ مِّنْ طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ هِ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَمًا فَكَسَوْنَا الْعِظْمَ لَحْمًا ثُمَّ أَنشَانَهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبْرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَالِقِينَ) (المؤمنون: ۱۳ تا ۱۵) اس آیت میں چھ تغیرات کا ذکر ہے۔ جن سے انسان کی جسمانی تکمیل ہوتی ہے اور اس کے بعد ایک دوسرا دور شروع ہوتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انسانی وجود کو عالم صغیر قرار دے کر خارجی عالم کبیر سے اس کا مقابلہ کر کے قرآن مجید کی آیات سے دونوں کی پیدائش کی تکمیل کے لئے چھ زمنی دور ثابت کئے ہیں۔ بلکہ ہر شئے کی تکمیل کے لئے یہی صورت تکمیل دکھائی ہے۔ دونوں عالموں میں پوری