صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 51
صحيح البخاري - جلد 1 ۵۱ ۵۹ - كتاب بدء الخلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جس عظیم مکاشفہ کا ذکر باب کی پہلی روایہ امکاشفہ کا ذکر باب کی پہلی روایت میں ہے، یہ مکاشفہ مثل رؤیا تعبیر طلب ہے۔ اس کے بعض حصے واضح ہیں۔ مثلاً آپ کا سینہ چاک کیا جانا، پیٹ سے آلائش کا نکالنا اور اس کا حکمت و ایمان سے بھرنا۔ قرآن مجید میں آپ کے انشراح صدر اور کامل تطہیر و تزکیہ کا ذکر بیسیوں آیات میں ہے۔ ان میں سے آیات الم نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ ) (الم نشرح: (۳۲) بھی ہیں اور بعض تمثیلی ص مینی صورت میں ہیں جو محتاج تاویل ہیں ۔ دونوں حصوں کے لئے دیکھئے تفسیر کبیر مصنفہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ تفسیر سورۃ بنی اسرائیل جلد ۴ صفحه ۲۷۹ تا ۲۹۸ - آیت ار ۲۹۔ آیت اسراء کی اس شرح میں اس ادراج ( خلط ملط ) سے متعلق بھی سیر کن بحث ہے۔ جس کی طرف امام بخاری نے روایت نمبر ۷ ۳۲۰ کے آخر میں اشارہ کیا ہے۔ حدیث اسراء کے سمجھنے کے لئے مذکورہ بالا حصہ تفسیر کا مطالعہ از بس ضروری ہے۔ روایت نمبر ۳۲۰۸ میں پیدائش انسان سے متعلق ملائکہ کے فرض منصبی کا ذکر ہے۔ قرآن مجید میں اس پیدائش کی تکمیل کے لئے چھ حالتیں بیان ہوئی ہیں۔ جس کے بعد نفخ روح ہوتا ہے اور ملک کے ذریعہ سے نوشتہ تقدیر تکمیل پاتا ہے۔ جس میں پیدا ہونے والے انسان کے عمل ، رزق ، عمر اور اس کی سعادت یا شقاوت کی صورت متعین ہوتی ہے۔ یہی معنی ہیں تقدیر کے جو تابع ہوتی ہے، ان مادی و روحانی اسباب کے جو اس کی پیدائش کا موجب ہوتے ہیں اور جن سے اس کی پیدائش کا ہیولی تیار ہوتا ہے اور یہی مفہوم ہے مذکورہ بالا حدیث کے الفاظ إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ کا یعنی تم میں سے ہر ایک کی پیدائش کے اسباب اس کی ماں کے پیٹ میں اکٹھے کر دیئے جاتے ہیں۔ اسی مفہوم اور انہی معنوں میں زیادہ وضاحت کے ساتھ کئی آیات ہیں، جن میں سے ایک آیت یہ ہے : هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنْشَاكُمْ مِّنَ الْأَرْضِ وَإِذْ أَنْتُمْ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهْتِكُمْ فَلَا تُزَكُوا أَنْفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى (النجم: ٣٣) وه خوب علم رکھتا ہے جس وقت اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور جس وقت تم اپنی ماں کے پیٹ میں بحالت جنین (پوشیدہ) تھے۔ سو اپنے نفسوں کو پاک نہ قرار دو۔ متقیوں کو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ اس آیت میں انسانی پیدائش کے دو زمانوں کا ذکر ہے۔ ایک زمین سے پیدا کئے جانے کا زمانہ جس میں نہ صرف زمینی مواد شامل ہیں جو اس کی پیدائش میں بطور اسباب اولیٰ کام کرتے ہیں بلکہ سارا اجتماعی ماحول بھی اس میں شامل ہے جس کے افکار و خیالات اور اخلاق و عادات بھی والدین کی ذہنی و اخلاقی تخلیق میں بطور اہم اسباب و محرکات اولی کے اثر انداز ہوتے ہیں۔ بچہ حالت جنین میں جو اس کی پیدائش کا دوسر زمانہ ہے ان سے غائت درجہ متاثر ہوتا ہے۔ اس آیت میں پیدائش انسانی کے انہی دو زمانوں کا ذکر کر کے نصیحت فرمائی ہے کہ ایسے حالات میں پیدا ہونے والے نفوس سے متعلق کوئی انسان نہیں کہہ سکتا کہ وہ کہاں تک پاکیزہ ہیں۔ جب تک اللہ تعالیٰ اپنی وسیع مغفرت ۔ رت سے یاوری نہ فرمادے، انسان کو کامل تزکیہ نصیب نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا آیت کے پہلے حصے میں اپنی صفت واسع المغفرة کا ذکر فرمایا ہے کہ انسان چونکہ اپنی پیدائش کے بارے میں غیر مختار اور بے بس ہے، اس لئے ایسے نقائص جو زمینی مواد اور اجتماعی ماحول اور والدین کے افکار و اخلاق