صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 50 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 50

صحيح البخاری جلد 4 ۵۰ ۵۹ - كتاب بدء الخلق کتاب العظمة سے منقول ہیں۔ان میں سے سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قابل قدر قول ہے کہ ملائکتہ اللہ میں سے بعض محافظ وحی ہیں اور بعض محافظ عباد و محافظ جنات اور موکل خلق و نشو ونما اور پیدائش کائنات ہیں۔(فتح الباری جزء 1 صفحہ ۳۷) امام بخاری نے جو روایتیں مذکورہ بالا باب کے تحت نقل کی ہیں، ان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کی تصدیق ہوتی ہے۔قرآن مجید میں بھی مختلف قسم کی خدمت بجا لانے والے ملائکہ کا ذکر وارد ہوا ہے۔مثلاً فرماتا ہے : وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لا يُفَرِّطُونَ ) (الأنعام : ۲۲) اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگران بھیجتا ہے۔یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اس کی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ تھی حکم میں کو تا ہی نہیں کرتے۔اس ایک آیت میں دو قسم کے ملکی کاموں کا ذکر ہے، بقاء وفتاء کا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ تھا: وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة : ۲۸) اللہ تجھے لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔یہ وعدہ ملائکہ کے ذریعہ سے پورا کیا گیا ہے۔فرماتا ہے : لَهُ مُعَقِبَتْ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ اَمْرِ اللهِ (الرعد : ۱۲) اللہ کی طرف سے اس (رسول) کے آگے بھی اور اس کے پیچھے بھی پے در پے آنے والے ملائکہ ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔اور دنیا نے دیکھا کہ نہایت ہی خطرے کی گھڑیوں میں حیرت انگیز طریق سے آپ کی حفاظت کی گئی۔اور فرماتا ہے : وَإِنْ تَظهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ * وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظهیره (التحریم: ۵) (اے نبی کی بیویو!) اگر تم دونوں رسول اللہ کے خلاف ایک دوسرے کی پشت پناہ بنوگی تو یاد رکھو کہ اللہ اس کا مددگار ہے اور جبریل اور صالح مومن بھی اور علاوہ ازیں ملائکہ بھی (اس کے ) پشت پناہ ہیں۔اس آیت میں اُن ملائکہ کا ذکر ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کے لئے مامور تھے۔اس آیت کے بعد ساتویں آیت میں عذاب النار کے ملائکہ کا ذکر ان الفاظ میں ہے : عَلَيْهَا مَلَئِكَةٌ غِلاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ) (التحریم: ۷) آگ کی سزا پر ایسے ملائکہ مقرر ہیں جو بڑے سخت ہیں اور اللہ نے جو حکم انہیں دیا ہے، اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو کچھ انہیں کہا جاتا ہے، وہ وہی کرتے ہیں۔0 قرآن مجید کی تصریحات سے ظاہر ہے کہ ہر نفس اور ہر ذرہ وجود پر ایک ملک محافظ مقر ر ہے جس سے اس کی بقادحیات قائم ہے۔فرماتا ہے: وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ وَمَا أَدْرَنكَ مَا الطَّارِقُ النَّجْمُ الثَّاقِبُه إِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ ه (الطارق : ۲ تا ۵) ان آیات کی لطیف تفسیر کے لئے دیکھئے آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۹۹ جہاں اس تعلق میں متعدد آیات بینات کے حوالے دیئے گئے ہیں۔جن سے ملائکہ کے کاموں کی نوعیت واضح ہو جاتی ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا محولہ بالا قول نہایت صحیح ثابت ہوتا ہے۔روحانی حیات کے قیام و بقا سے متعلق سورۃ القدر میں ذکر ہے۔فرماتا ہے : تَنَزَّلُ الْمَلئِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمُ (القدر : ۵) ملائکہ اور روح اپنے رب کے حکم سے ہر وہ امر لے کر نازل ہوتے ہیں جو سراسر سلامتی ہے۔ترجمه از حضرت خلیفة المسیح الرابع : قسم ہے آسمان کی اور رات کو ظاہر ہونے والے کی۔اور تجھے کیا بتائے کہ رات کو ظاہر ہونے والا کیا ہے؟ بہت چمکتا ہوا ستارہ کوئی (ایک) جان بھی نہیں جس پر کوئی محافظ نہ ہو۔}