صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 49 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 49

صحيح البخاری جلد ٦ ۴۹ ۵۹ - كتاب بدء الخلق دوسری سند مرفوع جو منذ ترج قرار دی گئی ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نظام ملکی کی جو وضاحت آئینہ کمالات اسلام میں بیان کی ہے، اس کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمودہ حقیقت نما ہے۔اس مفصل بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ " ہمیں اس بات کے ماننے سے چارہ نہیں کہ جو کچھ عالم صغیر میں ذات واحد لاشریک کا نظام ثابت ہوا ہے، اُسی کے مشابہ عالم کبیر کا بھی نظام ہے۔کیونکہ یہ دونوں عالم ایک ہی ذات سے صادر ہیں اور اس ذات واحد لاشریک کا یہی تقاضا ہونا چاہیے کہ دونوں نظام ایک ہی شکل اور طرز پر واقع ہوں تا دونوں مل کر ایک ہی خالق اور صانع پر دلالت کریں۔کیونکہ توحید فی النظام توحید باری عزاسمہ کے مسئلہ کو موید ہے۔وجہ یہ کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر کئی خالق ہوتے تو اس نظام میں اختلاف کثیر پایا جاتا۔غرض یہ بات نہایت سیدھی اور صاف ہے کہ ملایک اللہ عالم کبیر کے لئے ایسے ہی ضروری ہیں جیسے قومی روحانیہ وجستیہ نشاء انسانیہ کے لئے جو عالم صغیر ہے۔" ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ حاشیه صفحه ۱۷۶، ۱۷۷) ملائکہ کے وجود و فرائض منصبی کی مختلف اقسام و انواع کے بارے میں جو تفصیلات آئینہ کمالات اسلام کے محولہ بالا صفحات میں بیان ہوئی ہیں وہ بہت دلچسپ ہیں اور بیت معمور سے متعلق بعض روایات میں جو یہ الفاظ ہیں: وَمَسْجِدٌ فِي السَّمَاءِ بِعَذَاءِ الْكَعْبَةِ ( یعنی کعبہ کے عین مقابل میں ایک مسجد ہے ) یا ان کے ہم معنی دوسرے الفاظ۔ان کی حقیقت مشار الیہا تفصیلات سے واضح ہو جاتی ہے۔قرآن مجید میں بیت معمور کا ذکر بایں الفاظ وارد ہوا ہے فرماتا ہے : وَالطُّورِه وَكِتَبٍ مَّسْطُورٍ فِي رَةٍ مَّنشُورِه وَالْبَيْتِ الْمَعْمُورِ وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ هِ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ o مَّا لَهُ مِنْ دَافِعِ ٥ يَوْمَ تَمُورُ السَّمَاءُ مَوْرًا ، وَتَسِيرُ الْجِبَالُ سَيْرًاo (الطور : ۲ (۱۱) قسم ہے طور کی یعنی میں اسے شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں اور اس لکھی ہوئی کتاب کی ( بھی مجھے قسم ہے ) جو کھلے ہوئے کاغذوں پر لکھی گئی ہے) اور خانہ کعبہ کی جو ہمیشہ آباد رہے گا اور اس چھت کی جو ہمیشہ بلند رہے گی اور جوش مارنے والے سمندر کی۔تیرے رب کی طرف سے عذاب ضرور نازل ہو کر رہے گا۔اسے کوئی دور کرنے والا نہیں۔جس دن بادل لہریں مارنے لگے گا اور پہاڑ اپنی پوری رفتار کے ساتھ چلیں گے۔یہ سات عظیم الشان پیشگوئیاں ہیں جن میں سے ایک پیشگوئی بیت اللہ سے متعلق ہے کہ وہ ذکر الہی سے آباد رہے گا اور یہ پیشگوئی اس وقت کی گئی جب کعبہ مکہ کی چھت پست اور معمولی تھی اور مسجد نبوی کی چھت چند بالشت اور چھپر کھٹ کی مانند تھی جو نمازیوں کو بارش سے محفوظ نہیں رکھ سکتی تھی۔(کتاب الصلاۃ باب ۶۲ روایت نمبر ۴۴۶) پھر جس حیرت انگیز شان سے دونوں چھتیں بلند وبالا ہوئیں اور جس طرح یہ دونوں اب تک رات دن مسلسل ذکر الہی سے معمور ہیں، اقوام عالم کے مشاہدہ میں ہیں اور محتاج بیان نہیں۔مذکورہ بالا پیشگوئیوں کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر صغیر مصنفہ سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ زیر آیات محولہ بالا۔امام ابن حجر نے ملائکہ اللہ کے کاموں سے متعلق بھی بعض روایات و اقوال کا مختصر ذکر کیا ہے جو ابوالشیخ کی تصنیف