صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 48
صحيح البخاری جلد ٦ ۵۹ - كتاب بدء الخلق ملکی تمثلات سے متعلق مفصل معلومات کے لئے دیکھئے آئینہ کمالات اسلام مصنفہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔علامہ ابن حجر نے ملکی تمثلات سے متعلق بعض روایتیں طبرانی وغیرہ کی نقل کر کے لکھا ہے کہ ان کی سند میں بعض ضعیف راوی ہیں۔(فتح الباری جزء 4 صفحہ ۳۷۰) امام بخاری نے ایسی تمام روایات نظر انداز کی ہیں۔بیت معمور سے متعلق بھی مختلف روایتیں ہیں۔اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں اور طبری وغیرہ نے خالد بن عرعرہ سے روایت کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ سقف مرفوع اور بیت معمور سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے کہا: سقف مرفوع ( بلند چھت ) سے آسمان اور بیت معمور (آباد گھر) سے آسمان کا وہ گھر مراد ہے جو بیت اللہ کے مقابل پر واقع ہے اور اس میں ستر ہزار فرشتہ ہر روز داخل ہوتا ہے اور پھر وہاں نہیں لوٹتا۔یہ بیت معمور اسی طرح قابل عزت ہے جس طرح کہ زمین کا بیت اللہ۔طبری نے اسی ایک مفہوم کی الگ روایت سعید بن ابی عروبہ کی سند سے بحوالہ قتادہ نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے بیت معمور کا ذکر کیا اور فرمایا کہ آسمان میں ایک مسجد ہے جو بیت معمور کہلاتی ہے جیسے زمین میں بیت اللہ کی مسجد۔دونوں مسجدیں ایک دوسری کی مماثل و متوازی ہیں۔اگر وہ گر جائے تو یہ بھی گر جائے گی۔ستر ہزار فرشتے اس میں روزانہ داخل ہوتے ہیں۔اگر وہ اس سے نکلیں تو پھر بھی داخل نہ ہوں۔اس مفہوم کی روایتیں ضعیف و موقوف اور مرفوع فاکہی ، ابن مردویہ اور ابن ابی حاتم وغیرہ نے بھی حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہیں۔(فتح الباری جزء 4 صفحہ ۳۷۱) امام بخاری نے یہ روایتیں تو قبول نہیں کیں۔البتہ باب کی پہلی مفصل روایت کے ساتھ (وَقَالَ هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبي ) حضرت ابو ہریری کی روایت درج کر دی ہے جس میں قتادہ۔ابو ہریرہا والی مذکورہ بالا روایت کی طرف اختصار سے اشارہ ہے کہ یہ مشن ہے۔حدیث الاسراء ( روایت ۲۹۸۰) حضرت انس بن مالک سے مروی ہے جو مرفوع ہے اور اس کے روایت کرنے والے قتادہ ہیں۔جن سے سعید بن ابی عرو بہ اور ہشام دستوائی نے بھی یہی حضرت انس والی روایت نقل کی ہے اور اس میں بیت معمور کا بھی ذکر ہے اور اس سند سے حضرت انس ہی کی طرف منسوب ہے۔گویا یہ حصہ روایت بطور ادراج ہے۔قتادہ کا حافظہ قوی نہ تھا۔بعض وقت اپنے الفاظ میں مفہوم ادا کر دیتے تھے۔اس لئے ان کے متعلق تدلیس کا شبہ ہے۔اس کا ذکر پہلے بھی کیا جا چکا ہے۔یہاں روایت نمبر ۳۲۰۷ کی سند میں بھی مذکورہ بالا ادراج یعنی تدلیس کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے : وَقَالَ لِي خَلِيفَةً یعنی یہ دور و استیں خلط ملط ہیں۔ایسی روایت کو مدرج کہتے ہیں۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه (۳۷) چنانچہ بد به بن خالد کی یہی اسراء ( یعنی معراج ) والی روايت كتاب مناقب الأنصار ، باب المعراج میں حضرت مالک بن صعصعہ سے بسند حضرت انس مروی ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں: ثُمَّ رُفِعَ لِيَ الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ۔یعنی پھر آباد گھر مجھے دور سے دکھایا گیا۔لیکن اس میں ستر ہزار فرشتوں کے روزانہ داخل ہونے کا ذکر نہیں۔(دیکھئے روایت نمبر ۷ ۳۸۸) یہاں سیاق کلام اس روایت کے مطابق ہے جو خلیفہ بن خیاط نے امام بخاری سے بیت معمور کے بارے میں بیان کی اور باب المعراج میں سیاق کلام ہدیہ بن خالد کی روایت کے مطابق ہے۔اس لئے امام موصوف نے الفاظ وَقَالَ هَمَّامٌ۔۔۔فِي الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ سے مذکورہ بالا ادراج یعنی خلط ملط کی طرف توجہ دلائی ہے جو دو الگ روایتوں کے نقل کرنے میں ہوا ہے۔گو مذکورہ بالا روایت کی ایک سند معنفن ہے اور