صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 47
صحيح البخاری جلد 4 ۴۷ ۵۹ - كتاب بدء الخلق انسانوں کی روحانی اصلاح کا فریضہ ایک ملک کے سپرد ہے جس کی وجہ سے اسے جبرائیل کہتے ہیں اور اسی کا دوسرا نام روح القدس اور روح الأمين ہے جو حامل وحی قرآنی ہے۔فرماتا ہے: وَإِنَّهُ لَتَنْزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْآمِينُ عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ) (الشعراء : ۱۹۳ تا ۱۹۵) اور یقینایہ ( قرآن ) رب العالمین خدا کی طرف سے اتارا گیا ہے۔اس کو لے کر ایک امانت دار کلام بردار فرشتہ (جبریل) تیرے دل پر اُترا ہے۔تا کہ تو ہوشیار کرنے والی جماعت میں شامل ہو جائے۔یہی جبریل روح القدس کے نام سے موسوم ہے۔فرماتا ہے : قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِينَ آمَنُوا وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ ) (النحل: ١٠٣) تو کہہ دے کہ اسے روح القدس نے تیرے رب کی طرف سے حق کے ساتھ اُتارا ہے تا کہ وہ اُن لوگوں کو ثبات بخشے جو ایمان لائے اور فرمانبرداروں کے لیے ہدایت اور خوشخبری ہو۔دونوں آیتوں میں جبرائیلی وحی پیغام انذار و تبشیر سے مخصوص بتائی گئی ہے، اس لئے اس میں اصلاح کا مفہوم بھی طبعا پایا جاتا ہے۔بعض کے نزدیک جبرائیل نام سریانی ہے۔(فتح الباری جزء 4 صفحہ ۳۷۰،۳۶۹) لیکن سریانی ، گلدانی نبطی ، آرامی، عبرانی وغیرہ سامی الاصل تمام زبانیں عربی زبان ہی کی شاخیں ہیں۔بلکہ عربی زبان کو دنیا کی تمام زبانوں میں ماں کا درجہ حاصل ہے۔جس کی وجہ سے بانی سلسلہ احمدیہ علیہ الصلوۃ والسلام کے نزدیک عربی ام الالسنہ ہے۔اس کے متعلق مزید تحقیق کا حق محبتی مکرم شیخ محمد احمد صاحب بی اے، ایل ایل بی ( کپور تھلوی ) ایڈووکیٹ، امیر جماعت ہائے احمد یہ لائل پور نے ادا کیا ہے۔اس بارہ میں ان کے لیکچرز جو طبع ہو چکے ہیں پڑھے جائیں۔امام ابن حجر نے لفظ جبرائیل سریانی قرار دے کر یہ رائے ظاہر کی ہے کہ عربی زبان میں بھی حسن اتفاق سے اس کا وہی مفہوم ہے جو سریانی میں۔مگر آج کل محققین کی رائے اول الذکر نظریہ کی طرف مائل ہے جو بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کے عقیدہ سے زیادہ قریب ہے۔اس تعلق میں دیکھئے آپ کی کتاب منن الرحمن و مقالات مکرم شیخ محمد احمد صاحب مظہر مطبوعہ رسالہ الفرقان متمبر و دسمبر ۱۹۵۱، جولائی، اکتوبر نومبر و دسمبر ۱۹۵۲، جنوری، فروری، مارچ، اپریل، مئی، جون ، اگست ستمبر، اکتوبر نومبر ۱۹۵۳، اور فروری و مارچ مئی، جون، جولائی ۱۹۵۴ء ان مقالات میں متعدد فارمولے بیان کر کے ثابت کیا گیا ہے کہ کس طرح عجمی زبانوں کا اصل ماخذ عربی الفاظ ہیں۔میکائیل بھی دو لفظوں سے مرکب ہے میک اور ایل سے، روایات مندرجہ بالا میں پہلی روایت ۳۲۰۷ ہے جو کتاب الصلاة باب میں بھی منقول ہے۔اس میں ملکی تمثلات کا ذکر ہے۔تمثل کے معنی کسی شکل کی مانند ظاہر ہونا۔ملکی تمثلات حقیقت پر مبنی ہیں اور ان کا تعلق قطعاً قوت واہمہ یا خیال سے نہیں۔بلکہ انبیاء واولیاء اللہ جیسے راست باز گروہ کے یقینی مشاہدات سے متعلق ہیں۔جو لاکھوں کی تعداد میں ہیں اور وہ تمثلات دور و نزدیک کے امور غیبیہ پر مشتمل ہوتے ہیں اور جیسا مشاہدہ ہوتا ہے عین اس کے مطابق غیر معمولی حالات میں وہ امور وقوع پذیر ہوتے ہیں اور یہ دلیل ان تمثلات کے حقانی ہونے پر قطعی الدلالت ہے۔مذکورہ بالا واقعہ از قبیل مکاشفات ہے۔نماز کی تلقین بھی جبریلی تجلی کے تحت ہوئی تھی۔(دیکھئے کتاب مواقيت الصلاة، بابا) یہ مقالات کتابی صورت میں بھی شائع ہو چکے ہیں۔