صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 499
صحيح البخاری جلد 4 ٤٩٩ ۲۰ - كتاب احاديث الأنبياء مغفرت و رحم کی دعا کرتے ہیں۔ہمارے آقائے نامدار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی حال وقال تھا جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى آثَارِهِمْ إِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا ه (الكهف :) (کیا) اگر وہ اس عظیم الشان کلام پر ایمان نہ لائیں تو تو ان کے غم میں شدت افسوس کی وجہ سے اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال دے گا۔(ترجمہ از تفسیر صغیر) نبوت کی برکات سے کوئی قوم اس وقت تک متمتع رہ سکتی ہے جب تک اسے روحانی طور پر زندہ رکھا جائے۔یہ بات حسن تلقین اور آیات اللہ کی تقلی کے دائمی مشاہدہ سے حاصل ہوسکتی ہے۔جس کے لئے ایک ذمہ داری علمائے امت پر عائد ہوتی ہے اور دوسری ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے سورہ نور میں اپنے اوپر لی ہے، فرمایا ہے: وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِى الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ (النور : ۵۶) یعنی اللہ نے تم میں سے ایمان لانے والوں اور مناسب حال عمل کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کو زمین میں خلیفہ بنا دے گا جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنا دیا تھا۔( ترجمہ از تفسیر صغیر ) چنانچہ روایت نمبر ۳۴۶۹ میں آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول بھی اس بارے میں نقل کیا گیا ہے کہ پہلی امتوں میں محدث گذرے ہیں۔یعنی اللہ تعالیٰ کی ہم کلامی سے مشرف لوگ اور اس وقت میری امت میں عمر کو بھی یہ شرف حاصل ہے۔فقره إِنْ كَانَ فِي أُمَّتِى مِنْهُمُ شک اور تردد کے مفہوم میں وارد نہیں ہوا، یہ اسلوب کلام ہے۔آپ کو یقینی طور پر معلوم تھا، نہ اس سے پایا جاتا ہے کہ امت میں ان کے سوا کسی اور کو مقام محد ثیت حاصل نہیں۔صحابہ کرام میں اور بھی اس سے شرف یاب تھے، مرد بھی اور عورتیں بھی۔ان میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا درجہ صدیقیت پر فائز تھیں لیکن یہ خوش نصیب افراد اد با اظہار کم کرتے تھے۔امام ابن حجر اپنی شرح میں اسی روایت کے تعلق میں لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کی نسبت جس امید و توقع کا اظہار فرمایا تھا وہ فی الواقع پوری ہوئی اور حضرت عمر کے سوا امت میں اور بھی بے شمار محدث ہوئے ہیں۔اس بارہ میں ان کے الفاظ یہ ہیں: وَقَدْ وَقَعَ بِحَمْدِ اللَّهِ مَا تَوَقَّعَهُ النَّبِيُّ ﷺ فِي عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَوَقَعَ مِنْ ذَلِكَ لِغَيْرِهِ مَا لَا يُحْصَى ذِكْرُهُ (فتح الباری جزء ۶ صفح ۶۳۲) بعثت مجددین کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مشہور ارشاد ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: إِنَّ اللَّهُ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلّ مِائَةِ سَنَةٍ مَّنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِيْنَهَا الله تعالى ضرور اس امت کے لئے ہر صدی کے آغاز پر ایسا شخص مبعوث فرمائے گا جو اس کے لئے دین کو تازہ کرے گا۔غرض یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا جو اب تک پورا ہوتا چلا آیا ہے۔اس کی تفصیل میں مجھے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ان مجددین کے نام اور کارنامے تاریخ اسلام میں محفوظ ہیں اور ان کے سوا اور بھی اولیاء اللہ امت محمدیہ میں بکثرت ہوئے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا ہے۔صلى الله (ابوداؤد، کتاب الملاحم، باب ما يذكر في قرن المائة)