صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 500 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 500

البخاری جلد ٦ ۵۰۰ ۲۰ - كتاب احاديث الأنبياء باب زیر شرح کے تعلق میں صرف یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ نزول مسیح کے ابواب کے ضمن میں مذکورہ بالا حدیث کا ذکر اس غرض سے ہے کہ مسیح محمدی بھی ان موعودہ مجددین میں سے ایک مجدد وقت ہوگا جس کا شمار محد ثین میں سے ہے اور مماثلت روحانی کے اعتبار سے وہ اسی طرح مقام نبوت پر فائز ہو گا جس طرح مسیح موسوی۔وہ شارع نبی نہیں ہوگا بلکہ تابع شریعت اسلام اور اس کے ہاتھوں آسمانی حربہ سے کسر صلیب قتل دجال کی مہم سر ہوگی۔خارق عادت نشان ظاہر ہوں گے۔جن کے ذریعہ سے جہاں احیائے ملت کا کام سر انجام پائے گا وہاں انبیاء علیہم السلام کے بالمقابل برپاشدہ طاغوتی جنگوں کا بھی خاتمہ ہوگا۔پہلا کام بصد مشکل اور دوسرا آسان کہ وہ آسمانی تدبیر سے حل ہوگا۔لفظ محدث ( وال کی زیر سے ) بات کرنے والا اور مُحدَّث ( دال کی زبر سے) جس سے باتیں کی جائیں یعنی اللہ تعالیٰ سے ہم کلام۔مقام محد ثیت بلندشان روحانی مقام ہے۔یہ معمولی نہ سمجھا جائے۔روایت نمبر ۳ ۳۴۷ میں طاعون کو رِجْجس کہا گیا ہے۔خود قرآن مجید میں اس آیت کا ذکر ہے جس میں بنی اسرائیل بطور سزائے الہی مبتلا کئے گئے تھے۔(سورۃ البقرۃ آیت ۶۰ ) امت کو اس سے آگاہ کیا گیا ہے۔