صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 498 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 498

تيح البخاری جلد ٦ تشریح: ۴۹۸ ۲۰ - كتاب احاديث الأنبياء کتاب الانبیاء ایسے باب پر ختم کی گئی ہے جس میں متفرق روایات مذکور ہیں۔جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو وقتا فوقتا کسی سابقہ قوم بنی اسرائیل وغیرہ کے بیان کردہ نقص سناتے اور نیکی کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔مثلاً روایت نمبر ۳۴۸۲،۳۴۶۷ سے ظاہر ہے کہ جانوروں سے رحم کا سلوک بھی نجات کا باعث ہو سکتا ہے اور ان کو کھانے پینے سے محروم رکھنا سزائے جہنم کا مستوجب ہے۔روایت نمبر ۰ ۴٫۳۴۷ ۳۴۷ سے ظاہر ہے کہ رحمت الہی بے پایاں ہے اور توبہ کا دروازہ بند نہیں خواہ کوئی کتنا ہی گنہگار کیوں نہ ہو۔ان روایتوں میں بعض ایسی روایتیں بھی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ پہلی امتوں میں مکالمہ الہیہ جاری تھا اور مکاشفات سے لوگ بہرہ ور ہوتے تھے۔مثلا باب کی پہلی روایت ( نمبر ۳۴۶۶) میں دودھ پیتے بچے کی گفتگو سننے کا تعلق مکاشفہ سے ہے۔اسی طرح روایت نمبر ۳۴۷ میں بیان کردہ واقعہ جس میں گائے اور بھیڑیے کو بات کرتے سنا گیا۔روایت نمبر ۳۴۶۹ میں بتایا گیا ہے کہ اس امت میں بھی محدث ہوں گے بشرطیکہ تقویٰ اور خشیت اللہ اور اطاعت الہی سے کام لیا جائے۔روایات نمبر ۳۴۷۲، ۳۴۸۰،۳۴۷۸ اور ۳۴۸۱ میں تقویٰ اور خشیت کا نمونہ مذکور ہے اور روایت ۳۴۷۵ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تقویٰ اور اطاعت الہی میں آپ کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا گیا ہے۔روایت نمبر ۳۴۸۰ میں ایک دوسرے سے نیک سلوک اور روایات نمبر ۳ ۳۴۸۴،۳۴۸ میں شرم و حیا کے بارے میں تلقین کی گئی ہے۔اور روایت نمبر ۳۴۸۵ میں تکبر سے اور نمبر ۳۴۸۶،۳۴۷۶ میں باہمی اختلاف سے منع کیا گیا ہے اور روایت ۳۴۶۸ میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان کا قول نقل کیا گیا ہے جس میں ہموقع حج علمائے مدینہ کو مخاطب کیا اور انہوں نے پیوند شدہ بالوں کا گچھا دکھلا کر توجہ دلائی کہ یہ دیکھو مسلمانوں کی عورتیں یہود کی نقل کر رہی ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی طرف توجہ دلائی کہ بنی اسرائیل اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کی عورتوں نے غیر قوموں کا چال چلن اختیار کیا۔یہی روایت نمبر ۳۴۸۸ میں نئی سند سے دہرائی گئی ہے کہ یہ فرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشینوں اور علمائے امت پر عائد ہوتا ہے کہ وہ امت کو غیر قوموں کی مشابہت سے روکیں اور پند و نصیحت سے ان کے اندر نیکی قائم رکھیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تلقین کا نمونہ کتاب الانبیاء کے آخر میں اسی غرض سے نقل کیا گیا ہے۔اللہ کا عامۃ الناس کہاوت کی صورت میں نیک اثر آسانی سے قبول کرتے ہیں اور اس امر کی ممانعت نہیں کہ غیر قوموں کی اچھی باتیں سنائی جائیں اور وعظ ونصیحت اور نیک تلقین کی غرض سے مسلمانوں کے لئے جمعہ کا دن مقرر کیا گیا ہے۔اس کا ذکر روایت نمبر ۳۴۸۶ میں ہے جس سے یہ ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ ایسی تلقین علمائے امت کا فرض واجہی ہے۔اس تعلق میں روایت نمبر۳۴۷۷ سے یہ بتایا کہ نیک تلقین میں اس بات کی مطلق پرواہ نہ کی جائے کہ کوئی نصیحت سے بگڑتا ہے یا کسی کے برا منانے سے پند و نصیحت ترک کر دی جائے بلکہ قوم سے ہمدردی اور اس کی خیر خواہی کا جذبہ غالب اور مقدم رہنا چاہیے۔آخر ایسے بھی نبی گزرے ہیں کہ قوم نے مار مار کر لہولہان کر دیا اور وہ اس کے لئے