صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 495
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۹۵ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء هُوَ قَائِمٌ فَقَالَ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فرمایا: جو تم نے کیا ہے اس پر کس بات نے آمادہ کیا ؟ صَنَعْتَ قَالَ يَا رَبِّ خَشْيَتُكَ فَغَفَرَ لَهُ وہ بولا : اے میرے رب ! تیرے ڈرنے ہی۔ اللہ نے وَقَالَ غَيْرُهُ مَخَافَتُكَ يَا رَبِّ۔ اس پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے اس سے درگذر فرمایا۔ اور حضرت ابو ہریرہ کے سوا اوروں نے یوں کہا: تیرے خوف نے اے میرے رب ایسا کرنے پر آمادہ کیا۔ طرفه: ٠٧٥٠٦ ٣٤٨٢: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ ۳۴۸۲ : عبد اللہ بن محمد بن اسماء نے مجھ سے بیان مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ کیا کہ جویریہ بن اسماء نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع أَسْمَاءَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ سے ، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُذِّبَتِ ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے سزادی گئی جس نے امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ اس کو دیر تک قید کر رکھا یہاں تک کہ وہ بھوک سے فَدَخَلَتْ فِيْهَا النَّارَ لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا مرگئی اور اس وجہ سے وہ ) اور اس وجہ سے وہ (عورت ) دوزخ میں داخل وَلَا سَقَتْهَا إِذْ حَبَسَتْهَا وَلَا هِيَ تَرَكَتْهَا ہوئی ۔ نہ تو اس نے بلی کو کچھ کھلایا اور نہ ہی پانی پلایا۔ تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ۔ اس نے اس کو روک رکھا۔ نہ خود کھانا دیا اور نہ اس کو اطرافه: ٢٣٦٥ ، ٣٣١٨ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھاتی۔ ٣٤٨٣ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ۳۴۸۳ : احمد بن یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَنْ زُهَيْرٍ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ رِبْعِيّ زُہیر سے روایت کی کہ منصور نے ہمیں بتایا کہ ربعی بْنِ حِرَاشٍ حَدَّثَنَا أَبُوْ مَسْعُوْدٍ بن حراش سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت عُقْبَةُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله ابو مسعود عقبہ ( بن عمر و انصاری) نے ہم سے بیان عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ کیا، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں نے جو مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ پہلے انبیاء کی باتوں میں سے روایتی بات یاد رکھی، ان حيد عمدة القاری میں اس جگہ لفظ سَجَنَتُهَا ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۶ صفحہ ۶۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔