صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 490
صحيح البخاری جلد ۶ ۴۹۰ ۲۰ - كتاب احاديث الأنبياء عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی زوجہ سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ سَأَلْتُ روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ علیہ وسلم سے طاعون کے متعلق پوچھا تو آپ نے مجھے الطَّاعُوْنِ فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ عَذَابٌ يَبْعَثُهُ اللهُ بتایا: وہ ایک عذاب ہے جس کو اللہ جن پر چاہتا ہے عَلَى مَنْ يَشَاءُ وَأَنَّ اللَّهَ جَعَلَهُ رَحْمَةً بھیجتا ہے اور یہ کہ اللہ نے اس کو مومنوں کے لئے لِلْمُؤْمِنِيْنَ لَيْسَ مِنْ أَحَدٍ يَقَعُ الطَّاعُوْنُ رحمت بنایا ہے جو کوئی بھی طاعون میں مبتلا ہو اور وہ فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا يَعْلَمُ اپنے شہر میں ہی صبر کر کے اس کی رضامندی کی خاطر أَنَّهُ لَا يُصِيبُهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللهُ لَهُ إِلَّا كَانَ لَهُ ٹھہرا رہے اور وہ یقین رکھے کہ اسے صرف وہی مصیبت پہنچے گی جو اللہ نے اس کے لئے لکھ دی ہے تو ضرور اس کو ایک شہید جتنا ثواب ہو گا۔مِثْلُ أَجْرٍ شَهِيد۔اطرافه: ٥٧٣٤، ٦٦١٩۔٣٤٧٥: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۳۴۷۵ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ لیث نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن شہاب سے، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ قُرَيْشًا ابن شہاب نے عروہ سے،عروہ نے حضرت عائشہ أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْرُوْمِيَّةِ الَّتِي رضى اللہ عنہا سے روایت کی کہ قریش کو اس مخزومی عورت کے معاملہ نے فکر میں ڈال دیا تھا، جس نے چوری کی تھی۔انہوں نے کہا: کون اس کے بارہ میں اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوْا وَمَنْ رَسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کرے گا؟ يَجْتَرِى عَلَيْهِ إِلَّا أَسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ لوگوں نے کہا: سوائے اسامہ بن زیڈ کے جو رسول اللہ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب ہے اور کون آپ کے پاس جرات کر سکتا ہے۔چنانچہ حضرت اسامہ نے آپ سَرَقَتْ فَقَالُوْا وَمَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُوْلَ فَكَلَّمَهُ أَسَامَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی سے کہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اللہ کی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْفَعُ فِي حَدٍ مِنْ سزاؤں میں سے کسی سزا کے متعلق سفارش کرتے ہو۔حُدُوْدِ اللهِ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ثُمَّ قَالَ پھر آپ کھڑے ہوئے اور تقریر کرتے ہوئے فرمایا: تم