صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 487 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 487

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۸۷ ٢٠ - کتاب احاديث الأنبياء مَا بَيْنَهُمَا فَوُجِدَ إِلَى هَذِهِ أَقْرَبَ بِشِبْرٍ دور ہو جا۔ پھر فرشتوں سے فرمایا: دونوں بستیوں کے درمیان جو فاصلہ ہے اس کو ناپو۔ تو اس بستی کے جس کی طرف جانے کا قصد رکھتا تھا، ایک بالشت زیادہ فَغْفِرَ لَهُ۔ قریب پایا گیا۔ اس لئے اس کو بخش دیا گیا۔ ٣٤٧١: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۳۴۷۱ : علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنِ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا کہ ابوالزناد نے الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ہمیں بتایا ۔ انہوں نے اعرج سے ، اعرج نے ابوسلمہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى رَسُوْلُ اللَّهِ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ روایت ۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی ۔ پھر لوگوں سے متوجہ ہوئے اور ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ بَيْنَا رَجُلٌ فرمایا: ایک بار کوئی شخص ایک گائے کو ہانکے لے جا رہا يَسُوقُ بَقَرَةً إِذْ رَكِبَهَا فَضَرَبَهَا تھا۔ اتنے میں اس پر سوار ہو گیا، اس کو مارا۔ وہ بولی: فَقَالَتْ إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهَذَا إِنَّمَا خُلِقْنَا ہم اس غرض کے لئے نہیں پیدا کئے گئے ۔ ہم تو صرف لِلْحَرْثِ فَقَالَ النَّاسُ سُبْحَانَ اللهِ کھیتی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ لوگ سن کر کہنے بَقَرَةٌ تَكَلَّمُ فَقَالَ فَإِنِّي أُوْمِنُ بِهَذَا أَنَا گے: سبحان اللہ ! گائے بھی باتیں کرتی ہے۔ آپ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمَا هُمَا ثَمَّ وَبَيْنَمَا نے فرمایا: میں اور ابوبکر اور عمر اس پر یقین رکھتے ہیں رَجُلٌ فِي غَنَمِهِ إِذْ عَدَا الذِّئْبُ فَذَهَبَ اور وہ دونوں وہاں موجود نہ تھے۔ اور ایک بار کوئی مِنْهَا بِشَاةٍ فَطَلَبَ حَتَّى كَأَنَّهُ شخص اپنی بکریوں میں تھا کہ اتنے میں بھیڑیئے نے اسْتَنْقَذَهَا مِنْهُ فَقَالَ لَهُ الذِّئْبُ هَذَا حملہ کیا اور ان میں سے ایک بکری لے گیا۔ وہ (مالک) اس کے پیچھے لگا ، یہاں تک کہ اس نے اس اسْتَنْقَذْتَهَا مِنِّي فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبْعِ بکری کو اس سے چھڑا لیا۔ اتنے میں بھیڑ یا اس سے يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي فَقَالَ النَّاسُ بولا: بھلا یہ بکری تو تم نے مجھ سے چھڑا لی ہے مگر اس سُبْحَانَ اللَّهِ ذِنْبٌ يَتَكَلَّمُ قَالَ فَإِنِّي زمانے میں اس کا کون نگران ہوگا جبکہ میرے سوا اس أُوْمِنُ بِهَذَا أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمَا کا کوئی چرواہا نہ ہوگا۔ لوگوں نے سن کر کہا: سبحان اللہ !