صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 481
صحيح البخاری جلد ؟ ۴۸۱ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء روحیں صف آراء ہیں۔انبیاء علیہم السلام کی شیطان کے مقابل پر صف آرائی کا منتمی و خاتمہ کسر صلیب قتل دجال ہے جو ازل سے مسیح موعود کے ہاتھوں سے مقدر تھا لیکن ظاہری تلوار وحربہ سے نہیں بلکہ آسمانی تدبیر سے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم اس تدبیر کو سمجھیں اور اسے اختیار کریں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گداخت کا نمونہ ہو اور دنیا کی سلامتی کے لئے دل گداز ہوں اور دعاؤں میں لگ جائیں اور تبلیغ کا حق ادا کریں۔بھولی بھٹکی قوموں کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھا جائے کہ اسلام کے نور سے وہ محروم ہیں۔الفاظ ام حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ کے سوالیہ فقرے سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ ہمارے وہم و گمان سے بھی بڑھ کر الہی ربوبیت کی شان ظاہر ہوسکتی ہے جو مسلمانوں کے لئے موعودہ بشارت کی حامل ہو۔پیشتر اس سے کہ ابواب زیر شرح کا مضمون ختم کیا جائے سورۃ الکہف کی ان سات آیات کی طرف توجہ منعطف کی جاتی ہے جو امام بخاری نے ضمنی عنوان میں نمایاں کی ہیں۔یہ آیات توحید پرست عیسائیوں کی ابتدائی حالت اور ان کی بود و باش سے ہی متعلق ہیں اور جن غاروں میں وہ پناہ گزین تھے یا شمال مغربی یورپ میں زیر زمین رہا کرتے تھے، ان کی جائے وقوع آیت وَتَرَى الشَّمْسَ إِذَا طَلَعَتْ تَزَاوَرُ (الكهف: ۱۸) سے متعین ہوتی ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر کبیر جلد چہارم صفحه ۴۲۹، ۴۳۰۔بَابِ ٥٣ : حَدِيثُ الْغَارِ غار والوں کا قصہ ٣٤٦٥ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيْلِ ۳۴۶۵: اسماعیل بن خلیل نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ علی بن مسہر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبید اللہ بن عمر بْنِ عُمَرَ عَنْ نَّافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ سے عبید اللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رَضِيَ فرمایا: ایک دفعہ تین شخص ان لوگوں میں سے جو تم سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا ثَلَاثَةُ پہلے تھے، نجارہے تھے کہ اتنے میں ان پر بارش نَفَرٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ {يَمْشُونَ إِذْ ہونے لگی اور انہوں نے ایک غار میں پناہ لی۔پھر وہ أَصَابَهُمْ مَطَرْ فَأَوَوْا إِلَى غَارٍ فَانْطَبَقَ ناران پر بند ہوگئی تو ان میں سے ایک نے دوسرے عَلَيْهِمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ إِنَّهُ وَاللهِ سے کہا: اللہ کی قسم ! تمہیں صرف اخلاص ہی نجات فتح الباری مطبوعہ بولاق میں یہاں يَمْشُونَ“ کا لفظ ہے (فتح الباری جزء 4 حاشیہ صفحہ ۶۱۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔