صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 480 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 480

صحيح البخاری جلد ٦ ۴۸۰ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء روحانی آنکھ سے بے نور اور دنیوی آنکھ سے دیدہ ور ہیں۔کن لوگوں نے جھوٹ فریب کو سیاست میں اپنایا ہے اور ان کے نزدیک یہ امر برا نہیں سمجھا جاتا۔کن اقوام کی طرف سے مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے اور ان کے ہاتھ سے حکومتیں یکے بعد دیگرے نکل گئیں یا وہ ضعف واضمحلال کا شکار ہوئیں اور کون اس زمین پر فتنہ و فساد اور ہلاکت آفرینی اور عالمگیر تباہی و بربادی کا باعث بنا کہ اس سے قبل دنیا میں اس کی مثال نہیں۔مذکورہ بالا سوالوں کا جواب مختصر اور صرف ایک ہے کہ وہ صلیب پرست قومیں ہیں جن کا ذکر مع ان کے حسن وفتح کے سورۃ الکہف میں بطور انذار و تبشیر وارد ہوا ہے اور ان سے بچنے کے لئے مسلمانوں کو ہوشیار کیا گیا ہے۔یہ کہ شانِ ربوبیت ان کی تاریخ سے ہویدا ہے۔نہایت پست حالت سے بیدار ہوئیں۔حضرت مسیح علیہ السلام کی دعوت توحید قبول کی اور کلمہ توحید پر مرمٹیں اور اس کے لئے انتہائی ظلم و ستم سہے۔اس جہت سے یہ تو میں كَانُوا مِنْ آتِنَا عَجَبًا (الكهف: ١٠) خدا تعالیٰ کے احسانِ عظیم کا مورد بنہیں کہ قرون مظلمہ میں ریگستان عرب سے روشن شدہ مشعل ہدایت کے انوار سے مستفید ہوئیں۔سپین وغیرہ ممالک کے مسلمان معلمین کی تعلیم و تربیت سے انہیں عقل و علم حاصل ہوا اور پھر اس کے بعد ان میں ایک دوسرا انقلاب آیا: كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَاءِ ه (الكهف : ١٠٦) اپنے رب کے احسانات کی ناشکری کی اور اس کی ملاقات کا انکار۔جس مسیح سے کلمہ توحید کا سبق حاصل کیا تھا اور اس کلمہ کی خاطر قربانیاں کیں اس مسیح کو خدا سمجھنے لگیں۔عقیدہ تثلیث اور کفارہ کو نجات کے لیے کافی سمجھنے لگیں اور جن مسلمانوں کے فیوض سے مستفید ہوئی تھیں انہی مسلمانوں سے تثلیث و کفارہ کی بیچ میں ان کی ٹھن گئی۔سپین میں مسلمانوں کا مذبحہ عظیمہ تاریخ عالم کا المناک سانحہ ہے جو بھولا نہیں جاسکتا۔طرابلس ، شام اور ہندوستان وغیرہ ممالک اسلامیہ کی داستان باس شدید کی طویل شرح ہے جو الگ تفصیلات کی محتاج ہے۔نہ صرف مسلمانوں کے لئے بلکہ ملک گیری کی ہوس اور دنیا کی حرص و آز میں جگہ جگہ کشت و خون اور ساری زمین کو تہہ و بالا کرنے کے آتش انگن زہر افشاں جہنمی آلات تک ایجاد کر لئے گئے ہیں: الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعاه (الكهف : ۱۰۵) غاروں کے توحید پرست پناہ گزینوں کی تثلیث پرست اولادیں دنیا کی زندگی میں ہی کھوئی گئیں اور انہیں گھمنڈ ہے کہ وہ صناعت میں ماہر ہیں۔غرض غایت درجہ ایجاز بلیغ سے عیسائی تاریخ کے دونوں پہلو اس کا حسن و فتح اور اس کا اوّل و آخر سورہ کہف میں مذکور اور واقعات سے مشہور ہے۔جس کے بعد فتنہ دجال کی مصداق اقوام معین طور پر معلوم کرنے میں کسی اور نشاندہی کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔صحیح بخاری کی کتاب احادیث الانبیاء کا یہ خاتمہ اپنے آغاز کے اعتبار سے قابل قدر ہے۔الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ ترجمه از تفسیر صفیہ : ( یہ وہ لوگ ہیں جن کی ( تمام تر کوشش اس ورلی زندگی میں ہی غائب ہوگئی ہے اور (اس کے ساتھ ) وہ (یہ بھی ) سمجھتے ہیں کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں۔