صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 479
صحيح البخاري - جلد 4 ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء کی وجہ سے امام بخاری نے خود اس روایت کا تو ذکر نہیں کیا مگر نزول مسیح، کسر صلیب اور قتل دجال کے ضمن میں ان کا عنوان أَصْحَابُ الْكَهْفِ وَالرَّقِیم قائم کرنا بلا وجہ نہیں۔ان کے نزدیک بھی اس سورۃ کا تعلق فتنہ دجال سے ہے۔اس وقت میرے پیش نظر سورۃ الکہف کی تفسیر نہیں کہ اس کا یہ موقع نہیں۔البتہ کتاب التفسیر میں اسی قدر بیان کیا جائے گا جس قدر امام موصوف نے بیان کیا ہے۔یہاں صرف ابواب کی شرح اور ان کا باہمی تعلق بتانا مقصود ہے۔روایت نمبر ۳۴۶۵ میں غار کا واقعہ جو آئندہ سطور میں بیان کیا گیا ہے، اس کا تعلق سورۃ کہف سے نہیں۔وہ الگ واقعہ ہے۔اس سے یہ ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ جس طرح تینوں شخصوں کو بسبب سابقہ نیکیوں کے غار سے نجات ملی، اسی طرح مسلمان بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی محنت اور قربانیوں اور دعاؤں کی وجہ سے بچائے جائیں گے۔أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا حَسَنًا ، مَّاكِثِينَ فِيهِ اَبَدان (الكهف: (۴۳) آپ کی محنت کا دائمی بدلہ ان کے لئے مقدر ہے۔اللہ تعالیٰ کی یہ بھی سنت ہے کہ انسان کی نیکی یا بدی محفوظ رکھی جاتی ہے اور اس کا اثر آئندہ نسل میں کسی نہ کسی نیک یا بدصورت میں ظاہر ہوتا ہے۔جیسا کہ تفصیل سے بتایا جا چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح مسلمانوں کی یہود ونصاری سے مشابہت کی وجہ سے فکرمند تھے، عیسائی اقوام کی حالت کفر و ضلال اور ان کے آئندہ فتنہ و شر کے سبب سے بھی جانگداز تھے اور سب اقوام عالم کی ہدایت کے لئے بیتاب ہمیں اپنی تبلیغی مساعی میں آپ کی سی روح ہمدردی کے ساتھ کام کرنا چاہیے تا آیت إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِكُلّ قَوْمِ هَادٍ (الرعد: ۸) کے مصداق ٹھہریں۔بأس شَدِيد اور شراکبر کے تعلق میں جہاں تک واقعات سے بحث ہے اس بارہ میں قرآن مجید کا بیان واضح ہے کہ موجودہ عقیدہ تثلیث باطل ہے یعنی کفارہ گناہ سے نجات کا باعث نہیں ہو سکتا بلکہ گناہ پر انسان کو جرات دلاتا اور نذر کرتا ہے۔گناہ سے بچنے کے لئے حقیقی راہ خدا کی تجلیات کا مشاہدہ ہے اور اس آنکھ کو پیدا کرنا ہے جو خدا کی عظمت کو دیکھ لے۔زمینی آنکھ بے نور ہوتی ہے جب تک آسمانی روشنی کا طلوع اور ظہور نہ ہو۔غرض قرآن مجید کی بأس شدید سے متعلق صراحت کے بعد ہمیں دیکھنا اور فیصلہ کرنا ہے کہ دجل کے لغوی معنی اور دجال کے اوصاف کن قوموں پر صادق آتے ہیں۔تجارت کے ذریعہ سے کون زمین پر چھا گیا ہے۔وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنعاه الكهف : (۱۰۵) صنعت میں کمال حاصل کرنے والے کون ہیں۔دجل کے ایک معنی ملمع سازی ہے، اس فن میں کن لوگوں کو مہارت حاصل ہے۔سینما کی ایجاد کس طرح تخریب اخلاق کا باعث ہے۔لٹریچر کے ذریعہ سے عقائد دینیہ کو کس نے بگاڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے وجود سے کھلم کھلا انکار کون قو میں کر رہی ہیں اور کون حمد ترجمه از تفسیر صغیر تو صرف ایک آگاہ اور ہوشیار ) کرنے والا ہے اور ہر ایک قوم کے لیے ( خدا کی ( اور ہر طرف سے ) ایک راہنما ( بھیجا جا چکا ہے۔}