صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 478
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۷۸ ٢٠ - کتاب احاديث الأنبياء ثانیاً: اوائل میں مسیحی لوگ انتہائی ظلم و ستم کا تختہ مشق بنائے گئے جس کی وجہ سے رومی مشرک اقوام کے درمیان ان کی زیست ناممکن ہوگئی اور انہیں رومی شہروں کے قرب و جوار میں زمین دوز پناہ گاہوں اور غاروں میں چھپ کر اپنی زندگی کے دن کاٹنے پڑے۔ ان پناہ گاہوں کا نام catacombs ہے ۔ جس کے معنی ہیں زیر زمین مدافن ۔ طالب علمی ہی کے زمانہ میں مجھے ان کے متعلق ایک کتاب پڑھنے کا موقع ملا ہے اور اس میں ذکر تھا کہ مسیح کے حواری پطرس نیز پولوس وغیرہ بھی ان عیسائی مبلغین میں تھے جنہوں نے روم میں حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیم کے مطابق وعظ گئے ۔ نیروں ( Nero) شاہ روم (۳۷ - ۲۸ء) نے اپنے استاد سینیکا (Seneca) کے حکم سے (۵۴-۶۸) میں عیسائیوں پر بے پناہ مظالم توڑے۔ انہیں زندہ جلوایا اور مشہور ہے کہ جب وہ آگ میں تڑپ رہے ہوتے تھے، یہ سنگدل ظالم ان کے سامنے چبوترے پر بیٹھا سارنگی بجا رہا ہوتا۔ جس کی وجہ سے وہ ظلم و قساوت قلبی میں ضرب المثل ہے۔ اس نے شبہ کی بناء پر اپنی ماں اور بیوی کو بھی قتل کروا دیا اور پطرس حواری کو الٹا لٹکا کر سولی پر ہلاک کیا۔ ان کی اور دیگر حواریوں کی قبریں مذکورہ بالا زمین روز پناہ گاہوں میں پائی جاتی ہیں اور ان مظلوم عیسائیوں کی قبروں کی وجہ سے ان غاروں کو Catacombs کہتے ہیں۔ موجودہ زمانے کے اکتشافات کے ذریعہ ان مدافن سے تختیاں برآمد ہوئی ہیں، جن سے ان کے عقیدۂ توحید کا علم ہوتا ہے اور اس وجہ سے وہ اصحاب الرقیم کہلائے۔ رقیم کے معنی مرقوم ، رقم شدہ، لکھا ہوا ۔ مزید حالات کے لئے دیکھئے : تفسیر کبیر مصنفہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب رضی اللہ عنہ، تفسیر سورۃ الکہف جلد چہارم صفحه ۴۱۸ صفحه ۴۱۸ تا ۴۲۷ پہلی صدی عیسوی میں عیسائی موحدین کی داستان ظلم وستم کا ذکر اسلامی مؤرخین ابن اسحاق وغیرہ نے بھی کیا ہے مگر ان کی روایات میں رطب و یابس ، و یا بیس اور سنے سنائے قصے داخل ہو گئے ہیں۔ جس کی وجہ کی وجہ سے امام بخاری نے اَصْحَابُ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ کا عنوان تو قائم کر دیا ہے مگر اس کے تحت کوئی روایت درج نہیں کی ۔ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ انہیں عیسائی موحدین کی تبلیغی جد و جہد اور شمال مغربی یورپ کی طرف ان کی نقل مکانی اور وہاں کی زیر زمین رہنے والی وحشی اور مشرک اقوام کے عیسائیت میں داخل ہونے کا علم تھا یا نہیں۔ اس بارہ میں وہ بالکل خاموش ہیں ۔ لیکن ایک بات سے متعلق وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ مذکورہ بالا عنوان أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابُ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ نزول سے، کسر صلیب قتل دجال کی پیشگوئی کے تعلق میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی بناء پر قائم کیا گیا ہے جو ائمہ کرام نے حضرت رت ابوالدرداء سے نقل کیا ہے۔ ان کی دو روایتیں ہیں۔ ایک میں ہے: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِّنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنَ الدَّجَّالِ ۔ اور دوسری میں ہے: مَنْ قَرَأَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرِ مِنْ سُورَةِ الْكَهْفِ یعنی جس نے سورۃ الکہف کی پہلی اور آخری دس آیات یاد کیں وہ فتنہ دجال سے بچایا جائے گا۔ سند کی کسی خامی (مسلم، كتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب فضل سورة الكهف وآية الكرسي) (مسند احمد بن حنبل، مسند القبائل بقية حديث أبي الدرداء، جزء ۶ صفحه ۴۴۶)