صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 477
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۷۷ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء نازل ہوا۔ اس ۔ سے ظاہر ہے کہ سورہ کہف تعلقات خوشگواری کے زمانے میں ناز خوشگواری کے زمانے میں نازل ہوئی تھی اور اس کے انذار و تبشیر باس شدید کی صورت اختیار کرنے والی تھیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے بھی یہی پایا جاتا ہے کہ سورہ کہف کا تعلق آئندہ زمانے میں ظاہر ہونے والے دجال سے ہے، جسے مسیح نازل ہو کر قتل کرے گا اور کسر صلیب کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے اصْحَابُ الْكَهْفِ وَالرَّقِيم (الكهف : (۱۰) کا ذکر نزول مسیح کی پیشگوئی کے ساتھ ہی کیا ہے کیونکہ سورہ کہف وہ سورت ہے جس کا بیان بڑا واضح ہے۔ اسے پڑھ کر موعود انذار و تبشیر اور باس شدید کے بارے میں کوئی الجھن پیدا نہیں ہوتی۔ سوم: مومنوں کو اس سورۃ میں بَأْسًا شَدِيدًا کے اندار کے ساتھ بشارت بھی دی گئی ہے کہ وہ موعود خطرے سے بچائے جائیں گے۔ انذار کا وعید دو دفعہ وارد ہوا ہے۔ ایک دفعہ مومنوں کے ذکر میں اور اس کے ساتھ وَيُبَشِّر الْمُؤْمِنِين فرما کر انہیں بشارت دی گئی ہے کہ اس بَاس شَدِید کے نقصان سے نجات پانے کی راہ ان کے لئے پیدا کی جائے گی (الکہف:۳) اور دوسری دفعہ انذار مسیح پرست اقوام کے ذکر میں ہے اور ان کے متعلق انذار میں بڑے تحدی اور زور دار الفاظ میں فرماتا ہے: وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيدًا جُرُزًا - اور ہم یقیناً ان سیچی قوموں کی زیب وزینت کا ساخته پرداخته (مَا عَلَى الْأَرْضِ) جو زمین پر بنایا گیا ہے، ملیا میٹ کر کے اسے ایک ویران سطح بنا دیں گے یعنی وہ اجڑ جائے گا۔ (الکہف: ۵ تا ۹ ) ان آیات میں بَاس شَدِید کے تعلق میں بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کے لئے بھی شدید خطرہ ہے لیکن وہ اس خطرے سے نجات پائیں گے مگر عیسائی ممالک تباہ و برباد کر دیئے جائیں گے۔ مذکورہ بالا واضح بیان کی وجہ سے امام بخاری نے ان ابواب کے تحت وفات مسیح ، مماثلت انبیاء، نزول مسیح، کسر صلیب و قتل دجال سے متعلق روایات کے ذکر میں سورۂ کہف کی متعلقہ آیت اَصْحَابُ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ کا حوالہ دیا ہے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ عیسائی اقوام جو دنیا کے لیے بَاس شَدِید اور شراکبر قرار دی گئی ہیں، انہیں أَصْحَابُ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ سے کیوں موسوم کیا گیا ہے؟ سو اس بارے میں اول واضح ہو کہ شمال مغربی یورپ کی قو میں قدیم زمانہ میں پہاڑوں کی غاروں میں بود و باش رکھتی تھیں اور آسمانی دیوتاؤں، سورج ، چاند، بادل ورعد وغیرہ کی پجاری تھیں۔ شجر و حجر پرستی بھی ان میں رائج تھی۔ روم کے عیسائی پادریوں نے جو موحد اور پارسا تھے انہیں عیسائیت کی تبلیغ شروع کی، انہیں لکھنا پڑھنا سکھایا۔ اور غاروں میں رہنے والی ان قوموں نے عیسائیت قبول کی اور رفتہ رفتہ ترقی کر کے بام عروج کو پہنچیں ۔ شمالی یورپ کی غاروں سے کتبے برآمد ہوئے ہیں، جن سے ان قوموں کی تاریخ کا پتہ چلتا ہے۔ میٹرک میں جو تاریخ انگلستان ہمیں پڑھائی گئی، اس کے پہلے صفحے کا عنوان Cave-Man (غار کا انسان ) تھا اور اس میں بتایا گیا تھا کہ از منه قبل التاریخ میں انگلستان کے باشندے غاروں میں رہا کرتے تھے اور ان کا نام Troglodytes تھا۔ جس کے لغوی معنے ہیں Cave Dwellers یعنی غاروں میں رہنے والے ۔ مذکورہ بالا کتاب لارڈ بکلے کی بیوی کی تصنیف ہے جو ایک قابل خاتون تھیں اور تاریخ یورپ سے بڑی واقفیت رکھتی تھیں۔