صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 476
البخاری جلد ٦ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّلِحَتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا حَسَنًا ٥ ( الكهف : ۳،۲) یعنی ہر تعریف کا اللہ ہی مستحق ہے جس نے ( یہ ) کتاب اپنے بندہ پر اُتاری ہے اور اس میں کوئی کبھی نہیں رکھی۔(اور اُس نے اسے ) سچ سے معمور اور صحیح راہنمائی کرنے والی بنا کر اُتارا ہے تاکہ وہ (لوگوں کو ) اس کی (یعنی اللہ کی طرف سے ( آنے والے) ایک سخت عذاب سے آگاہ کرے اور ایمان لانے والوں کو جو نیک اور ایمان کے مناسب حال ) کام کرتے ہیں بشارت دے کہ ان کے لئے (خدا کی طرف سے ) اچھا اجر ( مقدر) ہے۔(ترجمہ از تفسیر صغیر) ان آیات میں تین باتیں مذکور ہیں: اول: یہ کتاب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے جو ہمہ اوصاف حمیدہ سے متصف ہے۔اس لئے لازما یہ کتاب بھی (قیما) راستی سے معمور اور صحیح صحیح راہنمائی کرنے والی ہے۔کسی قسم کی کبھی یا خامی اس کے بیان میں نہیں۔جس سے بات مشتبہ ہو جانے کا اندیشہ ہو اور تاویل و توجیہ کی ضرورت پڑے۔دوم: یہ سورۃ بہت ہی بڑے خطرے سے ڈراتی اور قبل از وقت آگاہ کرتی ہے اور ان لوگوں کو خاص طور پر ڈراتی ہے جنہوں نے اللہ کا بیٹا تجویز کیا ہے یعنی مسیحی قوم کو۔بہت ہی خطرناک بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے۔ظاہر ہے کہ قرآن کریم کے اس بیان اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول میں کہ دجالی فتنہ سب فتنوں سے بڑھ کر ہے لے کوئی تعلق ضرور ہے اور وہ یہ کہ دونوں قول ایک ہی شر کی طرف انگشت نمائی کر رہے ہیں۔کیونکہ آپ فرماتے ہیں جو دجال کے شر سے بچنا چاہے وہ سورۃ کہف کی ابتدائی آیات کی تلاوت کرتا رہے۔اس ارشاد کے معنی سوا اس کے نہیں کہ جس فتنہ مسیحیت کا ذکر سورہ کہف میں کیا گیا، دوسرے الفاظ میں اسی کا نام فتنہ دجال ہے کہ اس میں تمام اوصاف دجل پائے جائیں گے۔باس شدید کے اس اندار میں کتنی صراحت ہے کہ پڑھنے سننے والوں کو قطعا دھوکا نہیں لگ سکتا کہ باسا شَدِيدًا کے اندار کا تعلق کن لوگوں سے ہے۔اس پیشگوئی کی عظمت کا پتہ اس امر سے بھی چلتا ہے کہ سورۃ کہف مکی ہے اور اس کا نزول ہجرت سے قبل چار پانچ سال کے عرصہ میں بتایا جاتا ہے کے جبکہ عیسائی قوم بے شر اور اس کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ماننے والوں کے تعلقات اچھے تھے۔خود قرآنِ مجید نے بھی سورۃ المائدہ آیت ۸۳ میں ان کی تعریف فرمائی ہے کہ نصاریٰ (أَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً) مسلمانوں سے بلحاظ محبت و دوستی زیادہ قریب ہیں اور تاریخ بھی گواہ ہے کہ عیسائی شاہان مصر و حبشہ نجاشی و مقوقس کے دوستانہ اور نیاز مندانہ تعلقات تھے۔سورۃ مائدہ مدنی سورۃ ہے، جس کا اکثر حصہ ۵ ھ سے لےھ میں ابن ماجه، كتاب الفتن، باب فتنة الدجال وخروج عيسى ابن مريم وخروج يأجوج ومأجوج) (بخاری، کتاب تفسیر القرآن سورة بنی اسرائیل، روایت نمبر ۴۷۰۸) (روح المعاني، تفسير سورة الكهف، جزء ۸ صفحه ۱۸۹)